عاصم رضا خیالوی
انسان نے بڑی محنت، طویل ریاضت اور انتھک تحقیق کے بعد دنیا کو سجانے، سنوارنے اور خوبصورت بنانے کے لیے اپنی عقل کے تحت دن رات کام کیا۔ مگر جہاں اس کی عقل نے دنیا کو سنوارنے اور ترقی دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، وہیں اس کے ساتھ ایک منفی سوچ بھی پروان چڑھتی رہی — جو اسی دنیا کو بگاڑنے، تباہ کرنے اور مٹا دینے کی نیت کے ساتھ خاموشی سے اپنا کام کر رہی تھی۔
یہی سوچ ضد اور احساسِ برتری کی سوچ ہے، جو صرف تباہی کی سوچ کی مالک ہوتی ہے۔ یہ وہ ذہن ہے جو مثبت سوچ رکھنے والے، انسانیت کے لیے کام کرنے والوں پر تنقید کرتا ہے، ان پر جھوٹے الزامات لگاتا ہے، اور اپنی انا اور ضد کے نشے میں جنگ، ظلم اور برتری کا راستہ اپناتا ہے۔
آج اگر ہم دنیا کے نقشے کو دیکھیں تو ہمیں صاف دکھائی دیتا ہے کہ بڑی طاقتیں اسی ضد اور احساسِ برتری کی بیماری میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ یہ لوگ اپنی بیماری میں اس قدر گرفتار ہیں کہ اب ان کا مرض آہستہ آہستہ لاعلاج بنتا جا رہا ہے۔ پوری دنیا میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، مظلوم انسانیت ان جدید احساسِ برتری کے مریضوں کے فیصلوں کو بے بسی سے دیکھ رہی ہے۔
یہ بیماری اس قدر خطرناک ہے کہ دوسروں کی خوبیوں، اصلیت اور مثبت سوچ کو صرف منفی زاویے سے دیکھتی ہے۔ یہ ذہن اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں تباہی ہی اس کی واحد سمت بن جاتی ہے۔ اگر ان ذہنی مریضوں کا علاج نہ کیا گیا تو ان کا نقصان پوری انسانیت کو اٹھانا پڑے گا۔ اس سے پہلے کہ دنیا اپنی آخری سانسیں گننے لگے، ان کے علاج کو یقینی بنانا ضروری ہو چکا ہے۔
بچپن میں میرے تایا ابو ایک کہانی سنایا کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ایک بادشاہ کو اس کے وزیر نے بتایا کہ ایک درویش نے خبر دی ہے کہ کل ایک ایسی آندھی آئے گی جو جس کے اثر میں آئے گا وہ پاگل ہو جائے گا، اور جو زیرِ زمین چھپ جائے گا وہ عقلی طور پر سلامت رہے گا۔ بادشاہ نے فوراً حکم دیا، زمین کے نیچے پناہ گاہیں بنوائیں، اور اپنے چند قریبی لوگوں کے ساتھ وہاں چھپ گیا۔
آندھی گزری، بادشاہ باہر نکلا تو پوری رعایا عجیب حرکات میں مبتلا تھی۔ وہ سب دیوانے بن چکے تھے۔ بادشاہ اور اس کے پچاس عقل مند ساتھی سلامت تھے، مگر اب وہی اقلیت پاگل کہلائی، کیونکہ زمین پر اکثریت کا قانون چلتا ہے۔ رعایا نے بادشاہ اور اس کے ساتھیوں کو پاگل سمجھ کر الگ کر دیا۔
اس کہانی کا مقصد یہ ہے کہ جب معاشرے کی اکثریت کسی غلط راہ پر چل پڑے تو درست سوچ رکھنے والے کم لوگ پاگل قرار پاتے ہیں۔ اگر بادشاہ چاہتا تو وہ اپنی پوری رعایا کو پہلے ہی بچا لیتا، مگر دیر کر چکا تھا۔
آج کی دنیا بھی اسی موڑ پر کھڑی ہے۔ طاقتور ممالک، جدید اسلحے کے خالق، اور دولت کے پجاری — سب اپنی ضد، انا اور احساسِ برتری کی بیماری میں مبتلا ہو کر ایک ایسی جنگ کی تیاری کر رہے ہیں جس کے بعد زمین پر زندگی کا وجود باقی نہیں رہے گا۔ ان حکمرانوں اور دنیا کے امیر ترین افراد نے اپنے لیے زیرِ زمین بنکر بنا رکھے ہیں تاکہ جب ایٹمی جنگ ہو تو وہ وہاں چھپ کر اپنی زندگیاں محفوظ رکھ سکیں۔ وہ یہ سمجھتے
ہیں کہ وہ بچ جائیں گے، اور جب باہر نکلیں گے تو لاشوں کے اوپر حکمرانی کریں گے۔
دنیا کی مرسڈیز اور لیموزین بنانے والے ادارے، رافیل طیارے تخلیق کرنے والے انجینئرز، عالی شان عمارتیں ڈیزائن کرنے والے آرکیٹیکٹس، اور ٹاپ ٹین امیر ترین لوگ — سب اپنے قیمتی موبائل، لباس، گاڑیاں اور عمارتوں کے ساتھ انہی لاشوں پر اپنی آسائشوں کو سیل کر دیں گے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دولت انہیں بچا لے گی، مگر دراصل وہ اپنی ہی بنائی ہوئی تباہی کے محل میں قید ہو جائیں گے۔
مقصدِ حکم دینے کے لیے حکم سننے والے ہونا ضروری ہیں۔دربار تبھی قائم رہتا ہے جب ’’چوہدری کہنے والے ‘‘ سامنے موجود ہوں۔لاشوں کے ڈھیروں پر نہ کوئی دربار بچتا ہے، نہ حکمرانی باقی رہتی ہے۔