مارکیٹیں یا ٹرانسپورٹ بند کرانے پر دہشت گردی کے مقدمات درج ہونگے عظمی بخاری

 حکومت نے جو فیصلہ لیا  اس سے پیچھے نہیں ہٹی‘ والدین بچوں کو ٹی ایل پی کی سرگرمیوں سے بچائیں ورنہ دہشت گردی کے مقدمات ہوں گے 
  رضوی برادران کی گرفتاری انسانی جانوں کے تحفظ پر کرنی ہے،  دونوں بھائیوں کی گرفتاری جلد کرلیں گے، کسی مسجد کو بند نہیں  کیا گیا
کسی بھی شہری کیلئے یہ جرم ہے وہ غیر قانونی طور پر غیر ملکی کو مکان کرائے پر دے یا ٹھہرنے کی جگہ فراہم کرے:صوبائی وزیر اطلاعات کی پریس کانفرنس 
لاہور(سپیشل رپورٹر )وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے  ہڑتال کے نام پر زبردستی کاروبار بند کرانا ناقابل قبول ہے،  رضوی برادران کی گرفتاری انسانی جانوں کے تحفظ پر کرنی ہے اور دونوں بھائیوں کی گرفتاری جلد کرلیں گے۔ لاہورمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  انہوںنے  کہا   ہڑتال کی کال کے نام پر زبردستی دکانیں، کاروبار یا ٹرانسپورٹ بند کرانا قطعی طور پر ناقابلِ قبول ہے، اگر کسی نے مارکیٹ بند کرانے یا ٹرانسپورٹ روکنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی اور دہشتگردی کے مقدمات درج ہوں گے۔عظمی بخاری نے کہا ہے کہ چندے کی تمام چیزیں مذہبی جماعت کے گھر پہنچتی تھیں، سعد رضوی اور جماعت کے ذمہ دار پرتشدد کارروائیوں میں ملوث تھے، والدین بچوں کو ٹی ایل پی کی سرگرمیوں سے بچائیں ورنہ ان پر دہشت گردی کے مقدمہ ہوں گے۔  عظمی بخاری نے کہا ہے کہ  رضوی برادران کی گرفتاری انسانی جانوں کے تحفظ پر کرنی ہے اور دونوں بھائیوں کی گرفتاری جلد کرلیں گے۔انہوں نے کہا ہے کہ ان کے اکائونٹ  منجمند ہیں، جو لوگ فنانس کرتے تھے ان کی فہرست بن چکی ہے، کسی بھی طرح کی کوئی فنڈنگ اس جماعت کو نہیں ہو رہی، مذہبی جماعت کے احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا گیا، پولیس اہلکاروں کی گاڑیاں چھینی گئیں۔انہوں نے کہا کہ عبادت گاہوں کو جلانا اور غیر مسلموں سے زیادتی کا ہمارا مذہب درس نہیں دیتا، غزہ اور فلسطین کی آزادی کیلئے   نکلنے والوں نے چیزوں کو جلایا، ٹی ایل پی کے لوگوں سے فائر آرمز کی گولیاں بھی ملیں، کیل لگے ڈنڈے، غلیل اور پستول استعمال کیے گئے، پولیس والوں کو انہی پسٹلز کی گولیاں  لگی ہیں، انہی کی گولیوں سے لوگ مرے۔  شہری املاک کو نقصان پہنچایا گیا ۔اگر یہ دوبارہ کوشش کریں گے تو میرا مشورہ ہے کہ نہ کریں نہ یہ کر پائیں گے، ریاست سے نہیں لڑ سکتے، ایک انتہا پسند جماعت کے مقدر کا فیصلہ   وفاق کرے گا،   اس حکومت نے جو بھی فیصلہ لیا کبھی پھر اس سے پیچھے نہیں ہٹی۔کہ ریاست سے ٹکرانے والے عناصر کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ قانون اور آئین سب سے بالاتر ہے، ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی،