آذربائیجان میں بھارت کی اقلیتوں کے خلاف مظالم پر بین الاقوامی کانفرنس

آذربائیجان میں بھارت کی اقلیتوں کے خلاف مظالم پر بین الاقوامی کانفرنس

عالمی سطح پر بھارتی مظالم کے پردہ چاک ہونے کے بعد بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی ایک مرتبہ پھر پاکستان فوبیا کا شکار ہو گئے ہیں۔

آذربائیجان میں اقلیتوں کے خلاف بھارت کی پالیسیوں کے حوالے سے پہلی عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں عالمی رہنماوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور اقلیتی نمائندوں نے شرکت کی۔ عالمی نشریاتی ادارے آزر ٹیک نیوز کے مطابق یہ کانفرنس بھارتی جابرانہ پالیسیوں کو عالمی انسانی حقوق کے ایجنڈے میں تبدیل کرنے کا واضح اشارہ ہے۔کانفرنس میں 1984 کے فسادات میں 8 سے 17 ہزار سکھوں کے قتل، 50 ہزار سے زائد سکھوں کی ہجرت، اور 1980 سے 1990 تک بے تحاشا جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل جیسے مظالم پر بھی بات کی گئی۔ شرکاء نے بھارت کی نسل پرستی اور اقلیتوں کے خلاف منظم اقدامات کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔پاکستان کی متوازن اور مؤثر خارجہ پالیسی کے تناظر میں، بھارتی گودی میڈیا شدید ردعمل کا شکار ہو گیا۔

عالمی کانفرنس کے بعد بھارتی نیوز 18 نے کانفرنس میں شامل سکھ رہنماؤں کو انتہا پسند قرار دے کر پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان پر من گھڑت الزامات عائد کیے۔اس دوران مقبوضہ کشمیر کے مؤقف پر بھی بھارتی میڈیا نے آذربائیجان پر پاکستان کے بیانیے کو اپنانے کا الزام لگایا، جبکہ کینیڈا سمیت دیگر ممالک نے سکھ رہنماؤں کے قتل میں بھارتی سرپرستی کے شواہد پیش کر رکھے ہیں۔یہ عالمی کانفرنس بھارتی مظالم کے خلاف عالمی سطح پر ہنگامی توجہ اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔