حیدرآباد میں 38 سالہ خاتون ڈاکٹر رہنی نے امریکی ویزا درخواست مسترد ہونے کے بعد ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر خودکشی کر لی۔
رہنی کی والدہ کے مطابق، اس کی بیٹی کافی عرصہ سے امریکا میں اپنا کیریئر آگے بڑھانے کا خواب دیکھتی تھی۔ اس نے کرغزستان سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی تھی اور امریکا میں مزید تعلیم یا کام کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔متوفیہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ویزا درخواست مسترد ہونے کے بعد رہنی بہت مایوس اور پریشان ہو گئی تھی۔ وہ ذہنی دباؤ اور تناؤ سے دوچار تھی اور اکثر بے چینی کا شکار رہتی تھی۔ اس کی والدہ کے مطابق، گزشتہ دن اس نے ایک نوٹ بھی چھوڑا ہے جس میں اس نے اپنے ذہنی دباؤ اور ویزا کے انکار کا ذکر کیا ہے۔پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر رہنی کے نیند کی گولیاں زیادہ مقدار میں کھانے یا انجیکشن لگانے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، لیکن حتمی وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد واضح ہو گی۔ گھر میں داخل ہونے پر اس کا جسم بے ہوش حالت میں پایا گیا، جس کے بعد اسے اسپتال لے جایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دیا گیا۔
پولیس اور تحقیقاتی حکام اس معاملے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں، اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ اس خودکشی کی اصل وجوہات کیا تھیں۔ اس افسوسناک واقعہ نے پورے خاندان اور علاقے میں غم و غصہ پھیلایا ہے، اور یہ واقعہ ذہنی صحت اور بین الاقوامی ویزا پالیسیوں کے حوالے سے بھی اہم بات چیت کا موضوع بن گیا ہے۔