ملکی سلامتی اور عوامی اتحاد کی عکاسی کرتی ہے، جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی بھرپور مذمت کی ہے۔
واقعہ کے مطابق، پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس کا مقصد علاقے میں بے چینی پھیلانا اور ملکی استحکام کو نقصان پہنچانا تھا۔ تاہم، ایف سی کے بہادر جوانوں نے فوری اور منظم کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو مقابلے کے دوران جہنم واصل کر دیا۔ اس کارروائی میں تین جوان شہید ہو گئے، جنہیں قوم اور حکومت کی طرف سے خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان جوانوں نے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا کر قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ انہوں نے شہید ہونے والے جوانوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمی اہلکاروں کی علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔دوسری جانب، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی اس دہشت گرد حملے کی مذمت کی اور اسے بیرونی پشت پناہی میں سرگرم خارجی عناصر کی بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور دعا کی کہ زخمی اہلکار جلد صحت یاب ہوں۔
صدرِ مملکت کا کہنا تھا کہ بیرونی حمایت یافتہ خوارج کی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ریاست کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ایف سی اور پولیس کی بروقت اور جرات مندانہ کارروائی کو بھی سراہا۔اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی سیکیورٹی فورسز دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، اور قوم ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف یہ کارروائی ملک کی اندرونی سلامتی کے لیے ایک اہم پیغام ہے کہ بیرونی عناصر کے ایجنڈے کو کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا۔