لاہور میں ہفتے کی شام تقریباً پونے پانچ بجے اچانک ڈسٹ اسٹارم نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
گرد و غبار سے بھرپور آندھی نے دن کے اجالے کو شام میں بدل دیا اور شہر کے کئی علاقوں میں وقت سے پہلے ہی اندھیرا چھا گیا۔
شہر پر چھا گیا گرد و غبار کا راج
تھنڈر اسٹارم تو اب تک لاہور نہیں پہنچا تاہم آندھی کی شدت نے شہری زندگی کو متاثر کیا۔ گرد و غبار کے طوفان نے سڑکوں اور گلیوں کو مٹی سے بھر دیا۔ شاپنگ بیگز، پلاسٹک، اور کوڑا کرکٹ فضا میں اڑتا رہا، جس سے نہ صرف شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ صفائی کے ناقص انتظامات بھی کھل کر سامنے آگئے۔
شہریوں کا غصہ پھٹ پڑا
شہریوں نے اس صورتحال پر شدید ردعمل دیا اور سوال اٹھایا کہ اگر اتنی مٹی ہر جگہ موجود تھی تو پھر میونسپل عملہ روزانہ کی بنیاد پر کیا کرتا ہے؟ صفائی کی آٹومیٹک مشینیں اور جھاڑو والے صرف دکھاوے کی کارروائی کرتے ہیں۔ بعض جگہوں پر تو عملہ صرف جھاڑو کی لکیریں کھینچتا نظر آیا، جس سے تاثر تو صفائی کا ملتا ہے مگر اصل میں کچھ صاف نہیں ہوتا۔
آندھی سے جانی و مالی نقصان
لاہور ہائی کورٹ اور گردونواح میں تیز آندھی سے بجلی معطل ہوئی۔شانو بابا چوک میں سائن بورڈ اور بجلی کے کھمبے گر گئے۔گلبرگ مین بلیوارڈ اوریگا سینٹر کے قریب کھجور کا درخت گرا۔گڑھی شاہو چوک کے قریب بھی درخت گرنے کی اطلاعات ہیں۔ٹھوکر کینال روڈ پر ایک بڑا درخت گرنے سے راستہ بند ہوگیا۔منیر چوک کے قریب باغ علی اور کینٹ ایریا میں بھی درخت گرے۔نشتر پارک اسپورٹس کمپلیکس اور قذافی اسٹیڈیم کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا، جہاں پرانی بلڈنگ کی ٹائلز گر گئیں۔سیکیورٹی بیرئیرز ہوا میں اڑ گئے۔تیز ہواؤں کے باعث چھتوں پر لگی سولر پلیٹیں بھی اڑ گئیں۔
ٹریفک کا نظام درہم برہم
کیمپس پل، کینال روڈ، گلزار پل، اور دیگر شاہراہوں پر سائن بورڈز اور درختوں کے گرنے سے ٹریفک مکمل طور پر بلاک ہوگیا۔گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، اور شہری گھنٹوں سڑکوں پر پھنسے رہے۔
پی ایس ایل فائنل سے قبل ٹیموں کی پریکٹس متاثر
پاکستان سپر لیگ سیزن 10 کے فائنل سے قبل طوفانی آندھی کے باعث کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور لاہور قلندرز کی ٹیموں کی پریکٹس منسوخ کر دی گئی۔
نتیجہ: ناکام صفائی نظام کا بھانڈا پھوٹ گیا
ڈسٹ اسٹارم نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ لاہور میں صفائی کا نظام صرف کاغذی حد تک فعال ہے۔ آندھی نے جو مٹی اور کچرا ہوا میں اڑایا، وہ سب شہر کے سڑکوں اور گلیوں میں پہلے سے موجود تھا۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ صفائی کے نظام کو جدید، مؤثر اور جوابدہ بنایا جائے تاکہ ایسی قدرتی آفات کے دوران نقصان کم ہو۔