لاہور(کرائم رپورٹر)لاہور پولیس کے شہید کانسٹیبل عمار عاقب علی کی نمازِ جنازہ پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں ادا کر دی گئی۔شہید کانسٹیبل عمار عاقب علی فیکٹری ایریا انوسٹی گیشن ونگ میں تعینات تھے۔عمار عاقب علی دوران ریڈ ملزم آصف کی مزاحمت کے نتیجے میں بجلی کی ہائی وولٹیج تاروں کا کرنٹ لگنے سے شدید زخمی ہوگئے تھے۔ وہ جناح ہسپتال کے برن یونٹ میں زیر ِ علاج رہے مگرزخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق ِ حقیقی سے جا ملے۔سی سی پی او لاہوربلال صدیق کمیانہ، ڈی آئی جی(انوسٹی گیشن)ذیشان رضا، ڈی آئی جی (آپریشنز)محمد فیصل کامران، ایس ایس پی(انوسٹی گیشن) محمد نوید اور سینئرافسران نے شہید کی نماز جنازہ ادا کی۔ سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ اور لاہور پولیس کے چاق چوبند دستے نے شہید کانسٹیبل عمارعاقب علی کے جسد خاکی کو سلامی پیش کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ بلال صدیق کمیانہ اور دیگر سینئر افسران نے شہید کانسٹیبل عمار عاقب علی کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔سی سی پی او لاہور نے کہا کہ شہید کانسٹیبل عمار عاقب علی نے فرض کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کرکے محکمہ کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فرض کی راہ میں جانیں قربان کرنے والے افسران واہلکار محکمہ پولیس کی شان ہیں اور شہید کانسٹیبل عمار عاقب علی کی قربانی کسی صورت رائیگاں نہیں جائے گی۔انہوں نے کہا کہ شہید کانسٹیبل عمار عاقب علی کے اہل ِ خانہ کی ویلفیئرمحکمہ پولیس کی ذمہ داری ہے۔شہید کانسٹیبل عمار عاقب علی کا تعلق جھلکے گاؤں کاہنہ نو سے ہے۔شہید کے پسماندگان میں بیوہ اور ایک بیٹاشامل ہیں۔شہید کانسٹیبل عمار عاقب علی26جون2021ء میں محکمہ پولیس میں بطور کانسٹیبل بھرتی ہوئے تھے۔