سانحہ پمز کا ریکارڈ طلب کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہوگی اسلام آباد ہائیکورٹ

 سانحہ کی  ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کا جسٹس آف پیس کا حکم معطل  ‘وفاقی حکومت‘وزار ت صحت کو نوٹس‘جواب طلب
اسلام آباد(آئی این پی ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سانحہ پمز میں بچوں کی اموات کا مقدمہ درج کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے انکوائری رپورٹ سمیت مکمل ریکارڈ طلب کرلیا۔جسٹس خادم حسین سومرو نے وکیل ریاض حنیف راہی کی درخواست پر سماعت کی اور سانحہ پمز کی ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کا جسٹس آف پیس کا حکم معطل کردیا۔عدالت نے وفاقی حکومت، وزیراعظم آفس، وزارت صحت اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، جبکہ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی، آڈیٹر جنرل، چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو بھی نوٹس جاری کیے گئے۔ علاوہ ازیں عدالت نے سی ڈی اے، کیپٹل ایمرجنسی سروسز، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز، آئی جی اسلام آباد اور ڈی جی ایف آئی اے کو بھی نوٹس جاری کیے۔جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دئیے کہ وہ تمام رپورٹس اور شواہد طلب کریں گے اور اگر کوئی کوتاہی سامنے آئی تو ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیں گے۔