تیل کی قیمتوں میں اچانک کمی

تیل کی قیمتوں میں اچانک کمی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی پاور پلانٹس پر ممکنہ حملے مؤخر کرنے کے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

ایران سے ممکنہ جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا، تاہم تازہ پیش رفت کے بعد اس رجحان میں بریک لگ گئی ہے۔بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت 13 فیصد سے زائد کمی کے بعد تقریباً 96 ڈالر فی بیرل تک گر گئی ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت میں مجموعی طور پر تقریباً 17 ڈالر فی بیرل کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم عالمی مارکیٹ میں تاحال اتار چڑھاؤ جاری ہے۔اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 13.5 فیصد کمی کے بعد 85.28 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ" پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ بہت اچھے اور نتیجہ خیز مذاکرات ہوئے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں درپیش مسائل کے مکمل حل کے لیے بات چیت جاری ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کو ایرانی پاور پلانٹس پر ممکنہ حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے، تاہم یہ فیصلہ مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہوگا۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاملے پر صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا، جس کی مہلت منگل کی صبح 5 بجے ختم ہو رہی تھی۔