طالبان نے سیاسی مذاکرات کے بجائے طاقت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے کابل پر قبضہ کر لیا، جو معاہدے کی روح کے برعکس تھا
القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں کی افغانستان میں موجودگی سے خطے کیلئے سنگین سکیورٹی چیلنجز ہیں : رپورٹ
کابل( آن لائن )بین الاقوامی جریدے فیئر آبزرور کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق دوحہ معاہدہ کے بعد طالبان کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں نے افغانستان کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ خطے کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے سیاسی مذاکرات کے بجائے طاقت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے کابل پر قبضہ کر لیا، جو معاہدے کی روح کے برعکس تھا۔امریکی نمائندہ زلمے خلیل زاد کی طالبان کو ایک معتدل اور قابلِ اعتماد قوت کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں بھی تنقید کی زد میں آ گئیں۔ رپورٹ کے مطابق ان کی سفارتی حکمت عملی زمینی حقائق سے مطابقت نہ رکھ سکی، جس سے دوحہ معاہدے کی بنیادی کمزوریاں بے نقاب ہوئیں۔معاہدے کے تحت رہا کیے گئے ہزاروں قیدی دوبارہ طالبان میں شامل ہو گئے، جسے واضح وعدہ خلافی قرار دیا گیا۔ انسداد دہشت گردی سے متعلق کیے گئے وعدے بھی مؤثر ثابت نہ ہو سکے اور افغان سرزمین بدستور شدت پسند گروہوں کے استعمال میں رہی۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان نے شدت پسند تنظیموں کو روکنے کے بجائے انہیں جگہ دی۔ ایمن الظواہری کی کابل میں موجودگی نے طالبان کے دعوؤں کو مزید مشکوک بنا دیا۔ القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں کی افغانستان میں موجودگی بدستور برقرار ہے، جو خطے کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج ہے۔