مودی کی انتہا پسند پالیسیوں نے بھارت کو نفرت کی آگ میں دھکیل دیا

 اوڈیشہ میں مذہبی فسادات، 36 گھنٹوں کے لیے کرفیو نافذ، انٹرنیٹ سروس معطل
 انتہا پسند ہندو ہجوم نے شہر کے مختلف علاقوں میں آٹھ سے دس مقامات پر آگ لگا دی
نئی دہلی (آئی این پی )بھارتی ریاست اوڈیشہ میں درگاپوجا جلوس کے دوران مذہبی کشیدگی پھوٹ پڑی جس کے بعد شہر فسادات کی لپیٹ میں آگیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ہفتہ کی رات شروع ہونے والی جھڑپیں اتوار کو شدت اختیار کر گئیں اور صورتِ حال سنگین فرقہ وارانہ فسادات میں تبدیل ہوگئی۔ مشتعل انتہا پسند ہندو ہجوم نے شہر کے مختلف علاقوں میں آٹھ سے دس مقامات پر آگ لگا دی۔مقامی انتظامیہ نے حالات قابو سے باہر ہونے پر 36 گھنٹوں کے لیے کرفیو نافذ کر دیا جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی۔این ڈی ٹی وی کے مطابق، ہنگامے درگاپوجا ریلی کے دوران اس وقت شروع ہوئے جب مظاہرین نے اشتعال انگیز نعرے لگاتے ہوئے شہر کے لیے صرف ہندو شناخت کا مطالبہ کیا۔شیو سینا کی رکنِ پارلیمنٹ پریانکا چتورویڈی نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی جہاں آتی ہے، عوام میں تفریق اور نفرت بڑھا دیتی ہے،