سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
جمعے کے روزپیش آنے والے واقعات کے بعدپاکستان نے دعوی کیاکہ ان ڈرون حملوں کوبروقت ناکام بنادیاگیا،تاہم کچھ شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات نے عوامی حلقوں میں تشویش پیداکردی۔اس واقعے نے یہ سوال بھی اٹھایاکہ کیاجدیدجنگ کے یہ نئے ہتھیارآئندہ بھی پاکستان کے شہری علاقوں کونشانہ بناسکتے ہیں۔گویایہ واقعہ صرف ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک علامتی پیغام بھی تھاایساپیغام جس نے اسلام آبادکویہ احساس دلایاکہ خطیکی سیاست ایک نئے موڑپرپہنچ رہی ہے۔یہ واقعہ گویااس مثل کی یاددلاتا ہے کہ جب سرحدوں کے پہرے کمزورپڑجائیں تو دشمن کی نگاہیں شہرکی فصیلوں تک پہنچ جاتی ہیں۔
پاکستان نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے واضح کیاکہ شہریوں کونشانہ بناناناقابلِ قبول ہے۔افغان طالبان نے ایک ایسی حد عبورکرلی ہے جسے برداشت نہیں کیاجاسکتا۔ پاکستان کے سرکاری بیانات میں چندبنیادی نکات نمایاں تھے۔
٭افغان سرزمین کسی بھی پڑوسی کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
٭شہریوں کونشانہ بناناناقابل قبول ہے۔پاکستان اپنے شہریوں کے دفاع کامکمل حق رکھتاہے۔
٭یہ مقف دراصل عالمی سفارتی اصولوں کی بازگشت اورریاستی خودمختاری کے اصول کی ترجمانی کرتاہے۔
٭بین الاقوامی قانون کے مطابق اگرکسی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف حملوں کیلئے استعمال کرنادشمنی کے مترادف سمجھاجاتاہے اوراس صورت میں متاثرہ ریاست کودفاع کاحق حاصل ہوتاہے۔
یہاں ایک تاریخی حقیقت بھی قابل ذکرہے کہ پاکستان نے ماضی میں بھی اس مقف کوبارہادہرایاکہ افغانستان کی سرزمین کوکالعدم تحریک طالبان پاکستان کیلئے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔لیکن اگراب افغان طالبان خودپاکستان کے خلاف براہ راست کارروائیوں میں ملوث دکھائی دیں توصورتحال مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے۔پاکستان کی اس پالیسی میں وہی طرزِ فکرجھلکتاہے کہ ریاست کی ذمہ داری صرف سرحدوں کی حفاظت نہیں بلکہ شہریوں کے جان ومال کی پاسبانی بھی ہے۔
پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے کے مطابق 13مارچ کوافغان طالبان نے چندڈرونز کے ذریعے راولپنڈی،کوہاٹ اورکوئٹہ کونشانہ بنانے کی کوشش کی۔فوجی حکام کے مطابق ان ڈرونزکودو طریقوں سے ناکارہ بنایاگیا۔ فوجی حکام کے مطابق سافٹ کِل ٹیکنالوجی کے استعمال سے الیکٹرانک سگنلزکے ذریعے ڈرون کے کنٹرول سسٹم کوجام کردیاجاتاہے۔ اور ہارڈ کِل ٹیکنالوجی کے استعمال سے ڈرون کوبراہ راست نشانہ بناکرتباہ کیاجاتاہے۔اگرچہ ڈرون اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکے،مگران کے ملبے سے چندشہری زخمی ہوئے جن میں بچے بھی شامل تھے۔یہ واقعہ اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ جدیدجنگ میں چھوٹے ہتھیاربھی بڑے اثرات پیداکر سکتے ہیں۔
یہ حقیقت اگرچہ تسلی بخش ہے کہ حملے ناکام بنادیے گئے لیکن اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ یہ ڈرون پاکستانی فضائی حدود تک پہنچے کیسے؟یہ سوال دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتاہے کہ جدیدجنگ میں خطرہ ہمیشہ سرحدپرنہیں بلکہ کبھی کبھی فضاکے راستے خاموشی سے درآتاہے۔دوسری طرف افغان طالبان کی وزارت دفاع نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کے ڈرونزنے پاکستان کے ایک اہم فوجی کیمپ کونشانہ بنایا اوروہاں موجودکمانڈسینٹرکونقصان پہنچایا۔یہ دعوی بظاہرپاکستان کے مؤقف سے متضادہے۔ایسی صورت حال میں اکثریہ امکان ہوتاہے کہ دونوں فریق اطلاعاتی جنگ کاحصہ بن جاتے ہیں۔جدیددنیامیں بیانیہ بھی ایک ہتھیارہے۔جدید تنازعات میں بیانات اور دعوے اکثرحقیقت سے زیادہ اثر پید اکرتے ہیں،کبھی کبھی ایک بیان یادعوی میدان جنگ کی کامیابی سے زیادہ اثررکھتاہے۔گویایہ جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ بیانیے میں بھی لڑی جارہی ہے۔
یہ سوال آج پاکستانی معاشرے میں شدت سے زیربحث ہے کہ آیاافغان طالبان نیواقعی جنگ کوسرحدی علاقوں سے نکال کر پاکستان کے بڑے شہروں تک پہنچادیاہے۔اگرواقعی ایساہے تواس کامطلب یہ ہوگاکہ مستقبل کی جنگیں روایتی سرحدی لڑائی اور سرحدی چوکیوں تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ شہری مراکزبھی ان کی زدمیں آسکتے ہیں اورشہری مراکزکونشانہ بنانے والی غیر روایتی جنگ ہوگی جوباقاعدہ ایک بڑی جنگ کاپیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔۔یہ صورتحال نہ صرف سکیورٹی اداروں بلکہ شہری دفاع کے نظام کیلئے بھی ایک نیاچیلنج ہے ۔ ریڈلائن عبورکرنے کامطلب یہی ہے کہ دشمن نے اس حدکوپارکرلیاہے جہاں سے واپسی مشکل ہوجاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ڈرون زیادہ ترکمرشل ڈرونزہیں جومارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ان کی خصوصیات یہ ہیں کہ یہ کم قیمت،چھوٹادھماکہ خیزموادلے جانے کی صلاحیت،کے ساتھ محدودمگرمؤثررینج تک حملہ آورہوسکتے ہیں۔یہ ڈرونزجدیدجنگ میں ایک خطرناک رجحان کی نمائندگی کرتے ہیں کیونکہ انہیں بنانایاحاصل کرنانسبتاآسان ہے ۔یہی وجہ ہے کہ دنیابھرمیں غیر ریاستی عناصربھی انہیں استعمال کرنے لگے ہیں۔
طالبان حکومت نے دعوی کیا کہ یہ کارروائیاں پاکستان کے فضائی حملوں کے جواب میں کی گئیں۔چونکہ طالبان کے پاس روایتی فضائیہ موجودنہیں،اس لیے انہوں نے ڈرون ٹیکنالوجی کواپنے دفاعی ہتھیارکے طورپراختیارکیاہے۔طالبان نے دواقسام کے ڈرون استعمال کیے ہیں۔خودکش ڈرونزاوردوسرا کواڈکاپٹرزجوچارپروں والے ڈرون ہوتے ہیں جواسرائیلی ٹیکنالوجی سے متاثرہیں۔یہ عام طورپرنگرانی یامختصر فاصلے کے حملوں کیلئے استعمال کیاجاتاہے۔یادرہے کہ گزشتہ برس مئی کی پاک بھارت جنگ میں خوداسرائیلی آپریٹرز نے انڈیاکی سرزمین پربیٹھ کریہی ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کی تھی جس کے بارے میں اس کادعویٰ تھاکہ اس جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی کاتوڑقصرسفیدکافرعون،اس کے باپ امریکا کے پاس بھی نہیں کیونکہ یہ کامی کازیعنی خودکش ہیں جواپنی منزل پرپہنچ کرخودبھی تباہ ہوجاتے ہیں اوراس کی ٹیکنالوجی کے شواہدبھی نہیں مل سکتے، اس نے مزیدیہ دعویٰ بھی کیاتھاکہ پاکستان کیلئے چارڈرون ہی کافی ہوں گے لیکن پاکستان نے نہ صرف69کے قریب یہ ڈرون تباہ کئے بلکہ کئی ڈرون صحیح سلامت زمین پراتارکراسرائیل کے اس متکبردعوے کو خاک میں ملادیاتھااوربعدازاں جہاں سے یہ آپریٹ ہورہے تھے،اس مرکزکوبھی تباہ کردیاجس کے جواب میں رات کے اندھیرے میں ان آپریٹرزکے تابوت حیفہ اسرائیل پہنچائے گئے۔جونہی یہ تابوت حیفہ پہنچے تونیتن یاہواورمودی کی مشترکہ چیخیں اورمددکی پکاران کے سرپرستِ اعلی اورباپ،قصرسفید کے فرعون امریکی صدرٹرمپ تک پہنچی تو ٹرمپ نے فوری طورپرشب وروزاپنی کوششوں سے سیزفائرکیلئے پاکستان کوآمادہ کیااورخودٹرمپ دودرجن سے زائد مرتبہ پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں بھارتی رافیل طیاروں کی بربادی کانوحہ ساری دنیاکوسنا چکے ہیں۔
ایک غیرملکی عسکری ماہرکے مطابق ممکن ہے کہ طالبان نے ڈرون کے پرزے بیرون ملک سے حاصل کیے ہوں۔یہ بھی ممکن ہے کہ پرزے افغانستان میں اسمبل کیے گئے ہوں یا پاکستان میں خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے جوڑے گئے ہوں۔یہ امکان بھی ظاہر کیاجارہاہے کہ اسمگلنگ کے ذریعے ٹیکنالوجی منتقل کی گئی ہو۔کچھ اطلاعات کے مطابق طالبان کو ڈرون ٹیکنالوجی بہتربنانے میں بیرونی ماہرین کی مددحاصل ہوسکتی ہے۔اگرچہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے،لیکن جنوبی ایشیاکی سیاست میں انڈیا اورپاکستان کی رقابت ہمیشہ ایک اہم عنصررہی ہے۔اگرچہ ان حملوں سے بڑے پیمانے پرتباہی نہیں ہوئی،مگریہ پاکستان کیلئے ایک نفسیاتی دھچکہ تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی مرتبہ افغان طالبان نے پاکستان کے بڑے شہروں کونشانہ بنانے کی کوشش کی۔(جاری ہے)