پاکستان کا جوا: ایک تیز طوفان میں ثالث (دوسری قسط)

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
امریکااسرائیل اورایران کے درمیان جنگ جاری ہے،دونوں طرف سے حملے رکے نہیں ہیں لیکن اچانک سفارتی سرگرمیوں میں بھی تیزی آتی نظرآرہی ہے۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ترکی سعودی عرب مصر اورپاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان جنگ بندی کیلئے دو روزہ مشاورتی صلاح مشورہ ہوا، ان ملاقاتوں کوجنگ شروع ہونے کے بعدامریکااورایران کوبراہ راست مذاکرات تک پہنچانے کیلئے سب سے منظم علاقائی کوشش قراردیاجارہا ہے۔
اس ملاقات سے چندگھنٹے پہلے پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف نے ایرانی صدرمسعودپژشکیان کے ساتھ فون پربات کی،ایک اوراہم بات یہ بھی ہے کہ پاکستان نے پچھلے سال ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پردستخط کیے۔ماہرین کے مطابق اس کے تحت سعودی عرب اورپاکستان کے درمیان فوجی تعاون تومزیدگہراہواہی ہے، ساتھ ساتھ خطے میں طاقت کے توازن پربھی اس کااثرپڑسکتاہے۔اس معاہدے کی بنیادی شق یہ ہے کہ دونوں میں سے کسی بھی ایک ملک پرحملے کودونوں ممالک پرحملہ تصورکیا جائے گا۔ 
ایران پاکستان کاہمسایہ ملک ہے،دونوں کے درمیان900کلومیٹرلمبی سرحدہے اورپاکستان ایران کواپنا برادرملک کہتاہے۔پھر پاکستان میں کوئی امریکی اڈے بھی نہیں اوران خلیجی ممالک کے برعکس جواب تک ثالث کاکردار اداکرتے ائے ہیں۔ پاکستان فی الحال جنگ کاحصہ نہیں ہے اورشاید سب سے اہم بات کہ پاکستان امریکااورایران کے درمیان کردار اداکرنے کیلئے تیارہے توموجودہ صورتحال میں پاکستان کاکردارکتنااہم ہے اوروہ کس حد تک ڈی ایسکلیشن یاجنگ کے خاتمے کو حاصل کرسکتاہے؟
تاہم اگرعلاقائی سلامتی اوردفاع کی بات کریں جیساکہ ابھی گلوبلائزیشن میں جو ملٹی پولیرٹی کی طرف منتقلی ہورہی ہے،اس میں ریجن کاستحکام بہت ضروری ہے۔پاکستان اس خطے  کاایک ایساملک ہے جس کواس چیزکاادراک ہے،اگرچہ اس کے مشرق اورشمال میں مسلسل حالات خراب کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں لیکن پھر بھی وہ اپنے طوریہ کوشش کررہا ہے کہ تمام ممالک کوساتھ لے کرچلے اوراس ریجن میں جنگ کے شعلوں کوبجھاسکے۔اب اگریہ جنگ طویل ہوتی ہے اور سعودی عرب اس میں براہ راست شامل ہوجاتاہے تو پاکستان کیاکرے گا؟جبکہ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی ہے۔میرے خیال میں اس سوال کوتھوڑاسااگراس طریقے سے دیکھ لیں کہ اگرسعودی عرب ابھی تک اس تنازعہ میں کیوں نہیں آیاتو وہیں سے جواب مل جائے گا۔تاہم یہ امن مذاکرات جواس وقت ہورہے ہیں اورپاکستان اس میں بہت ہی نمایاں کرداراداکر رہاہے، آخر پاکستان کواس کاکیافائدہ ہے؟ 
تواس کوجواب یہ ہے کہ پاکستان کیلئے تومعاشی،سفارتی اورعسکری،ان تمام چیزوں کواگرآپ دیکھیں توپاکستان کیلئے یہ بہت بڑامسئلہ ہوگا،اگریہ تنازعہ آگے بڑھتاہے۔اس جنگ کوروکنے میں ہی پاکستان کافائدہ ہے۔یہ بات واضح ہے جنگ کی وجہ سے پاکستان میں ایک طرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ اوربڑھتی ہوئی مہنگائی دوسری طرف یہ خدشہ کہ اگر جنگ بڑھتی گئی اوراگراس میں سعودی عرب براہ راست شامل ہوگیاتوپاک سعودی دفاعی معاہدے کے پیش نظرپاکستان کامؤقف کیاہوگا؟ اورپھرپاکستانی عوامی رائے جواس جنگ کے امریکااوراسرائیلی کاروائی کے شدیدخلاف ہے،اس سب کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پرپاکستانی ساکھ کاسوال بھی ہے۔اگرپاکستان کی کوششیں کامیاب ہوجاتی ہیں توعالمی سفارت کاری کی دنیامیں یہ بہت بڑی فتح ہوگی۔ 
اسی دوران چین نے بھی پاکستان کی ثالثی کیلئے حمایت کااظہارکیاہے۔پاکستانی وزیرخارجہ اسحاق ڈارکے چین کے دورے کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔پاکستان گزشتہ کچھ عرصے سے کوشش کررہاہے کہ وہ ایران اورامریکاکوبات چیت کیلئے راضی کرے اوراسلام ابادمیں دونوں کوبراہِ راست مذاکرات کی میزپرلانے کیلئے اپنے ہاں میزبانی کرے۔ابھی تک ایساہو نہیں پایالیکن پاکستان اس میں ضرورکامیاب ہواہے کہ اس نے ملٹی لیٹرل قسم کاپلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی ہے جس میں اس نے پہلے تین مسلم ممالک سعودی عرب، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ کواسلام اباد میں مدعوکیا،اس کے بعد پاکستان کے وزیرخارجہ فوراًہی چین بھی چلے گئے جہاں سے پاکستان کے اس مصالحتی میزبانی کی مکمل حمائت حاصل کی ، جس میں چین نے پاکستان کے ساتھ مل کراس جنگ کورکوانے کی کوششوں کیلئے ایک پانچ نکاتی اعلامیہ جاری کیا۔ 
اس کے بعدپاکستان کی حکومت کے اوپرکافی نظریں ہیں کہ پہلے تووہ ایک متوقع ثالث کے طورپرسامنے آیا،لوگ توقع نہیں کررہے تھے کہ پاکستان ایساکرداراداکرسکتاہے یا کرے گالیکن اب وہ سامنے اگیاہے توکافی نظریں اس کے اوپرہیں کہ کیاوہ واقعی ایران کوراضی کرپائے گاکہ وہ امریکاسے بات چیت کرلے۔تو بہت سے ماہرین کاماننا ہے کہ یہ بہت مشکل ہوگا کیونکہ ایران اورامریکا کے درمیان اعتماد کافقدان ختم کرناکسی ایک ملک کیلئے ممکن نہیں ہوگاکہ وہ اکیلے اس کوکوئی گارنٹی فراہم کرسکے لیکن اگرایک ملٹی لٹریل قسم کاپلیٹ فارم ہوتاہے توشاید اس میں کامیابی کے مواقع زیادہ ہوں گیاور اگرچین کی مرضی اورمنظوری بھی اس میں شامل ہوجاتی ہے توایران کے اوپرچین کیونکہ ایک انفولئنس رکھتاہے،سوچ میں کامیابی کے مواقع زیادہ بڑھ جاتے ہیں لیکن اب ساری نظریں پاکستان پرہیں کہ کیاوہ واقعی ہی ان فریقین کوبات چیت پر راضی کر سکتا ے اورچین کی مددسے کیاوہ ضمانت فراہم کرسکتاہے جوایران کوچاہیے جس کے بعدکہ اسے کامیابی ہوگی اوروہ دونوں کواسلام اباد میں ایک میزپرجنگ بندی کیلئے مذاکرات کروانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ 
چین ایرانی تیل کاسب سے بڑاامپورٹرہے اورایران پراقتصادی پابندیوں کے باوجودکسی نہ کسی طرح ایران کاتیل خریدتارہا ہے۔چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاگیاہے کہ ایران اورخلیجی ریاستوں کی خود مختاری،علاقائی سالمیت،قومی آزادی اورسلامتی کاتحفظ کیاجاناچاہیے۔تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات اورسفارت کاری ہی واحدقابل عمل آپشن ہے۔ بیجنگ اورتہران نے2021میں25سالہ سٹریٹیجک معاہدے پردستخط کیے تھے جوکئی غیرملکی مبصرین کے مطابق امریکاکیلئے ایک وارننگ تھا،اس معاہدے میں دفاعی سازوسامان میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کی فروخت سے لے کرکلچرل ایکسچینجزتک شامل تھے۔بین الاقوامی پابندیوں کی شکارایرانی معیشت کیلئے چین ایک لائف لائن سمجھاجاتاہے۔2025میں چین نے ایران سے بھیجے گئے تیل کا80فیصدسے زیادہ حصہ خریدااوروہ بھی بہت زیادہ رعایتی داموں پر۔یوایس چائنااکنامک اینڈسیکیورٹی ریویو کمیشن کے مطابق چین نے2025میں ایران کے ساتھ 9.96 بلین ڈالرکی بائی لیٹرل یادوطرفہ تجارت کی،ان اعدادوشمارمیں2025میں چین کوغیر رپورٹ شدہ ایرانی خام تیل کی برآمدات میں تقریبا31.2بلین ڈالرشامل نہیں ہیں جوکہ اگر شامل کیے جائیں تومجموعی دوطرفہ تجارت کا75فیصدسے زیادہ حصہ ہے۔ ان اعداد وشمار سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ چین کیلئیایران میں جنگ بندی ضروری اوراہم کیوں ہے۔ 
اس وقت جو صورتحال ہے اس میں کوئی سفارتی حل مشکل ضرور نظر اتا ہے لیکن شاید ناممکن نہیں۔ ایران کی مذاکرات کی لمبی تاریخ ہے۔ 28فروری کے امریکا اور اسرائیلی حملوں سے پہلے جو مذاکرات جاری تھے ان کے بارے میں کئی سفارتی اہلکار کہہ چکے ہیں کہ ایران بہت اگے تک جانے کو تیار تھا، تو کیا اب یہ سفارتکاری کیلئے کوئی جگہ باقی ہے یا پھر یہ جنگ فی الحال پھیلتی ہی چلی جائے گی؟
 دونوں اطراف کوشش کررہی ہیں کہ سفارتی ذرائع سے جنگ ختم ہوجائے لیکن دونوں سائڈزفی الحال اپنے اپنے اینڈزپریہ کوشش بھی کررہے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ فوائدسمیٹ سکیں،مثلاً ایران کی کوشش یہ ہے کہ بس اس دفعہ جنگ ختم ہوتی ہے توکسی طریقے کی گارنٹی بھی دی جائے کہ یہ جنگ دوبارہ نہیں ہوگی اورامریکاکی کوشش ہے کہ وہ جب جنگ ختم کریں تواس طرح کی صورت حال ہوکہ وہ دنیاکوبتاسکیں کہ انہوں نے جنگ جیت لی ہے۔(جاری ہے)