جدہ کی خاموش سفارت کاری: پرد ہ راز میں چھپے طاقت کے نئے نقشے (دوسری قسط)

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
اس تناظرمیں پاکستان،ترکی اورسعودی عرب کے درمیان ممکنہ سہ فریقی شراکت داری ایک تدریجی ارتقاکاحصہ معلوم ہوتی ہے،جہاں ماضی کے تجربات،موجودہ علاقائی ضرورتیں اورمستقبل کے تزویراتی تقاضے ایک نقطے پرجمع ہورہے ہیں۔گویایہ معاہدہ ایک ایسے درخت کی نئی شاخ ہے جس کی جڑیں پہلے ہی تاریخ،اعتماد اورباہمی تعاون کی زمین میں پیوست ہوچکی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ اس وقت عالمی سیاست کے ایک ایسے نازک دوراہے پرکھڑاہے جہاں پرانے طاقت کے توازن تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں اورنئے علاقائی وعالمی اتحادتشکیل پا رہے ہیں۔گزشتہ چند برسوں کے دوران ایران اورامریکاکے درمیان کشیدگی،غزہ کابحران،شام اور یمن جیسے تنازعات،توانائی کے بدلتے ہوئے تقاضے اوربڑی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی مسابقت نے خطے کے سیاسی منظرنامے کوایک نئی شکل دے دی ہے۔ایسے حالات میں مسلم دنیاکیلئے یہ سوال اہم ہوجاتاہے کہ وہ بدلتی ہوئی عالمی صف بندیوں میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے کس نوعیت کی اجتماعی حکمتِ عملی اختیارکرے۔موجودہ دورمیں محض جغرافیائی قربت کافی نہیں،بلکہ سیاسی بصیرت،معاشی قوت،دفاعی صلاحیت اورسفارتی ہم آہنگی ہی ریاستوں کوعالمی نظام میں مؤثرکردار اداکرنے کے قابل بناتی ہے۔
بین الاقوامی سیاست اب روایتی یک قطبی نظام سے نکل کر ایک کثیر قطبی عالمی نظم کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں علاقائی طاقتیں اور باہمی اتحاد عالمی فیصلوں پر زیادہ اثر انداز ہو رہے ہیں۔  رانڈکارپوریشن اوربروکنگزانسٹیٹوٹ جیسے اداروں کے تجزیات بھی اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آنے والے عشروں میں علاقائی شراکت داریاں عالمی سیاست کے اہم ستون بن سکتی ہیں۔اسی تناظرمیں پاکستان،ترکی اورسعودی عرب کاممکنہ اتحادایک ایسے’’علاقائی طاقت کامحور‘‘کے طورپردیکھاجاسکتاہے جس میں تین مختلف نوعیت کی قوتیں یکجاہوتی ہیں۔پاکستان کی جوہری صلاحیت اورعسکری تجربہ،ترکی کادفاعی وسفارتی اثرورسوخ،اورسعودی عرب کی معاشی وتوانائی کی طاقت اگرمشترکہ حکمتِ عملی کے تحت بروئے کارآئے تویہ امتزاج خطے میں ایک نئے توازنِ قوت کو جنم دے سکتا ہے۔
یہ ممکنہ شراکت داری صرف مشرقِ وسطی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ جنوبی ایشیا،وسطی ایشیااورعالمی سفارت کاری کے وسیع تر دائرے میں بھی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔اس اتحاد کی اہمیت اس بات میں پوشیدہ ہے کہ یہ طاقت کے مقابلے کے بجائے طاقت کے توازن کے تصورکوفروغ دے سکتاہے جہاں علاقائی ممالک اپنی خودمختاری،سلامتی اورمشترکہ مفادات کے تحفظ کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔یوں بدلتاہواعالمی منظرنامہ اس حقیقت کواجاگرکرتاہے کہ موجودہ صدی میں وہی اقوام مؤثرکرداراداکرسکیں گی جو انتشارکی بجائے اشتراک،انفرادی قوت کی بجائے اجتماعی حکمت اوروقتی مفادات کی بجائے طویل المدتی وژن کوترجیح دیں گی۔
تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ ریاستوں کے تعلقات کبھی جامد نہیں رہتے۔وقت کیساتھ ساتھ حالات،ترجیحات اورعالمی تقاضے بدلتے رہتے ہیں،اوریہی تبدیلیاں
کبھی فاصلے پیداکرتی ہیں توکبھی قربت کے نئے راستے کھول دیتی ہیں۔ترکی اورسعودی عرب کے تعلقات بھی اسی تاریخی حقیقت کی ایک مثال ہیں۔
جمال خاشقجی کے واقعے کے بعددونوں ممالک کے درمیان جوسفارتی کشیدگی پیداہوئی،اس نے تعلقات میں ایک طویل سردمہری کوجنم دیا،مگروقت کے گزرنے کے ساتھ یہ احساس غالب آیاکہ عالمی سیاست میں مستقل دشمنی یادائمی دوستی کی بجائے قومی مفادات،علاقائی استحکام اورباہمی ضرورتیں زیادہ فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔آج ترکی اورسعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی محض ایک وقتی سیاسی مفاہمت نہیں بلکہ ایک گہرے تزویراتی ادراک کانتیجہ ہے۔دونوں ممالک نے یہ محسوس کیاکہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں باہمی اختلافات کوطول دینے کی بجائے مشترکہ امکانات کوفروغ دینازیادہ دانش مندانہ راستہ ہے۔
یہ مفاہمت ہمیں تاریخ کے ان ادوارکی یاددلاتی ہے جب مسلم دنیاکی مختلف ریاستیں داخلی اختلافات کے باوجودبڑے چیلنجز کے مقابلے کیلئے مشترکہ مفادات کے دائرے میں تعاون کرتی رہی ہیں۔اندلس کی تاریخ میں بھی ایسے ادوارملتے ہیں جہاں سیاسی اختلافات کے باوجود تہذیبی اورعلمی روابط نے معاشروں کوقریب رکھا۔آج کادوربھی اسی حقیقت کاتقاضاکرتاہے کہ ماضی کی تلخیوں کومستقبل کے امکانات پرغالب نہ آنے دیاجائے۔ترکی اورسعودی عرب کے تعلقات میں آنے والی بہتری اس بات کااظہارہے کہ دوراندیش قیادتیں تاریخ کے بوجھ تلے دبنے کی بجائے مستقبل کے راستے تلاش کرتی ہیں۔یوں یہ مفاہمت محض دوریاستوں کے تعلقات کی بحالی نہیں بلکہ اس وسیع ترحقیقت کی علامت ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت،استحکام اوراثرورسوخ انہی اقوام کوحاصل ہوتاہے جواختلافات کے باوجود تعاون کے امکانات کوزندہ رکھنے کاہنرجانتی ہیں۔
ترکی کی اس ممکنہ سہ فریقی شراکت داری میں دلچسپی محض ایک محدوددفاعی تعاون تک منحصرنہیں بلکہ اس کے پسِ پشت ایک وسیع ترعلاقائی وژن کارفرمادکھائی دیتاہے۔انقرہ اس امر کوبخوبی سمجھتاہے کہ مشرقِ وسطی کے موجودہ مسائل کی جڑصرف عسکری تنازعات میں نہیں بلکہ باہمی عدم اعتماد،سیاسی تقسیم اورمشترکہ حکمتِ عملی کے فقدان میں بھی پوشیدہ ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ترکی کامقصد ایک ایسے علاقائی پلیٹ فارم کی تشکیل ہے جہاں مختلف قوتیں اپنے اختلافات کوپسِ پشت ڈال کرسلامتی،استحکام اور مشترکہ مفادات کیلئے تعاون کرسکیں۔اگرپاکستان،سعودی عرب،ترکی اورممکنہ طورپرمصرجیسے اہم ممالک کسی مشترکہ فریم ورک کے تحت قریب آتے ہیں تویہ اتحادمحض دفاعی قوت ہی نہیں بلکہ سفارتی سطح پربھی ایک مؤثرآوازبن سکتاہے۔
یہ تصوربظاہرایک بلندخیال محسوس ہوسکتاہے،مگرتاریخ گواہ ہے کہ بڑے اتحاد ہمیشہ پہلے ایک خیال کی صورت میں جنم لیتے ہیں اورپھر حالات کی ضرورت انہیں حقیقت کے قالب میں ڈھال دیتی ہے۔یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے اتحاداور ایشیامیں ابھرنے والی علاقائی شراکت داریاں اس حقیقت کی مثال ہیں کہ مشترکہ مفادات کبھی کبھی مختلف ریاستوں کوایک نئے راستے پراکٹھا کردیتے ہیں۔ترکی کاوژن اسی وسیع ترتناظرمیں دیکھاجاسکتاہے۔یہ صرف عسکری تعاون کامنصوبہ نہیں بلکہ ایک ایسے علاقائی توازن کی تلاش ہے جس میں سفارت کاری،دفاع،معیشت اورسیاسی اثرورسوخ ایک دوسرے کے معاون بن سکیں۔رجب طیب اردوغان کی خارجہ پالیسی میں یہ تصورنمایاں نظر آتاہے کہ ترکی کوایک ایسی قوت کے طورپراپناکرداراداکرناچاہیے جویورپ،مشرقِ وسطی اورایشیاکے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتی ہو۔
بعض مغربی تجزیہ کاراس سوچ کو’’نیوعثمانی اسٹریٹجک آؤٹ لک‘‘کے عنوان سے بیان کرتے ہیں،اگرچہ اس اصطلاح کے مختلف سیاسی مفاہیم ہیں،تاہم اس کابنیادی نکتہ یہ ہے کہ ترکی اپنی تاریخی،جغرافیائی اورتہذیبی اہمیت کوجدید سفارتی اورتزویراتی کردارمیں تبدیل کرنے کی کوشش کررہاہے۔حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دورمیں علاقائی مسائل کاحل صرف بیرونی طاقتوں کے ذریعے تلاش نہیں کیا جا سکتا،بلکہ خطے کے ممالک کوبھی اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کااحساس کرناہوگا۔اسی لیے ترکی کایہ وژن ایک ایسے نئے علاقائی تصورکی طرف اشارہ کرتاہے جس میں اتحادکوغلبے کی بجائے استحکام،اورطاقت کوتصادم کی بجائے توازن کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔(جاری ہے)