سرخ لکیرکے پار

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
تاریخ کے افق پرجب کبھی قوموں کی تقدیرکے فیصلے لکھے جاتے ہیں تووہ محض تلواروں کی جھنکاریاتوپوں کی گرج سے نہیں لکھے جاتے۔وہ دراصل اس لمحے میں رقم ہوتے ہیں جب ایک قوم آزمائش کے طوفان کے سامنے کھڑی ہوکراپنے عزم کی شمع کوبجھنے نہیں دیتی۔یہ بھی درست ہے کہ تاریخ کے افق پربعض لمحے ایسے بھی ابھرتے ہیں جومحض واقعات نہیں ہوتے بلکہ زمانے کے ضمیرپرثبت ہونے والی صدائیں بن جاتے ہیں۔آج جنوبی ایشیا کے افق پرجوبادل منڈلارہے ہیں وہ صرف بارودکے بادل نہیں بلکہ اس عالمی سیاست کی دھندہیں جس میں طاقت کے ایوانوں نے انسانیت کے مستقبل کوشطرنج کے مہرے بنارکھاہے۔
 لیکن تاریخ کی عدالت میں طاقت کاغرورہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ فرعونوں کے محل بھی مٹی میں مل گئے اورقیصر وکسری کی سلطنتیں بھی وقت کی گردمیں گم ہوگئیں۔باقی رہتی ہے توصرف وہ قوم جواپنے ایمان،اتحاد اورعزم کی قوت سے آزمائش کے اندھیروں میں بھی امیدکاچراغ روشن رکھتی ہے۔
آج جنوبی ایشیا کی سرزمین ایک ایسے ہی موڑپرکھڑی ہے جہاں وقت کاہرلمحہ آنے والے کل کے فیصلے کوجنم دے رہاہے۔ افغانستان کی پہاڑیوں سیاٹھنے والی یہ نئی آندھی،پاکستان کے شہروں کی فضاں میں منڈلاتے یہ ڈرون،اورعالمی سیاست کے ایوانوں میں بچھائی گئی یہ خفیہ بساطیہ سب محض حادثات کاسلسلہ نہیں بلکہ ایک ایسے کھیل کے اشارے ہیں جس میں طاقت کے سوداگراپنے مفادات کے مہرے آگے بڑھارہے ہیں۔لیکن تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب قومیں آزمائش کے کڑے مرحلوں سے گزرتی ہیں توان کے کردار کااصل جوہراسی وقت نمایاں ہوتاہے۔
پاکستان نے گزشتہ برسوں میں جس استقامت اوربصیرت کے ساتھ خطے کے بحرانوں کاسامناکیاہے وہ اس حقیقت کاثبوت ہے کہ یہ قوم صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں بلکہ حکمت وتدبرکی آزمائش میں بھی سرخروہوسکتی ہے۔پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اس قوم نے ہردورمیں اپنے وجودکوچیلنج کرنے والی قوتوں کاسامناکیاہے۔کبھی اسے دہشتگردی کے عفریت کے حوالے کرنے کی کوشش کی گئی،کبھی اسے اقتصادی دباؤکے طوق میں جکڑنے کی تدبیریں کی گئیں،اورکبھی اسے عالمی تنہائی کے اندھیروں میں دھکیلنے کے منصوبے بنائے گئے۔مگرہرباراس سرزمین کے لوگوں نے یہ ثابت کیاکہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اپنے اجتماعی شعوراورعزم سے زندہ رہتی ہیں۔
ایران کوایک ممکنہ خانہ جنگی سے بچانا،دہشتگرد نیٹ ورکس کے پیچیدہ جال کوتوڑنا،اورخطے میں ایک بڑی سازش کوناکام بنانایہ سب ایسے اقدامات تھے جنہوں نے عالمی بساط کے بعض کھلاڑیوں کوبے چین کردیا۔یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کوایک نئی آزمائش کے دہانے پر لاکھڑاکیاگیاہے۔پاکستان اورافغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کواگرصرف سرحدی جھڑپوں یاڈرون حملوں کے محدوددائرے میں دیکھا جائے تویہ حقیقت کی توہین ہوگی۔یہ دراصل اس عالمی بساط کی ایک اورچال ہے جس کے خفیہ کھلاڑی خطے کی تقدیرکو اپنی خواہشات کے مطابق موڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔کبھی دہشتگردی کے نام پر،کبھی پراکسی جنگ کے پردے میں،اورکبھی اطلاعاتی یلغارکے ہتھیارکے ساتھافغانستان کی سرزمین سے اٹھنے والی یہ نئی آندھی بظاہرچند ڈرونزکی پروازمعلوم ہوتی ہے، مگراس کے پیچھے جوسیاسی طوفان چھپاہواہے وہ پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے سکتاہے۔اگر اس آگ کوبروقت نہ بجھایاگیاتو یہ محض سرحدی کشیدگی نہیں رہے گی بلکہ ایک ایسی جنگ کاپیش خیمہ بن سکتی ہے جس کے سائے ایٹمی تصادم تک پھیل سکتے ہیں۔
لیکن تاریخ کی ایک اورصداقت بھی ہے اوروہ یہ کہ ظلم، فریب اورسازش کی قوتیں چاہے کتنی ہی طاقتورکیوں نہ ہوں،آخرکار وہ قومیں ہی سرخروہوتی ہیں جواپنے عزم،اتحاداور ایمان کی قوت سے آزمائش کے طوفانوں کامقابلہ کرتی ہیں۔پاکستان کی سرزمین نے اس سے پہلے بھی کئی آزمائشیں دیکھی ہیں۔کبھی اسے دہشتگردی کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کی گئی،کبھی اسے اقتصادی محاصروں کے ذریعے کمزورکرنے کاخواب دیکھاگیا،اورکبھی اسے عالمی تنہائی میں دھکیلنے کی تدبیریں کی گئیں۔ مگرہربارتاریخ نے یہ ثابت کیاکہ اس قوم کے حوصلے کوشکست دیناآسان نہیں۔
آج بھی اگرعالمی بساط کے کھلاڑی یہ سمجھتے ہیں کہ سازشوں اورپراکسی جنگوں کے ذریعے پاکستان کوگھٹنے ٹیکنے پرمجبور کیاجاسکتاہے توشاید وہ تاریخ کے اس سبق کوبھول رہے ہیں کہ قوموں کی طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں بلکہ ان کے اجتماعی عزم میں ہوتی ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جب خطے کی قیادت کویہ فیصلہ کرناہوگاکہ آیاوہ نفرت اورجنگ کے راستے پرآگے
 بڑھنا چاہتے ہیں یادانش اورسفارت کی راہ اختیارکرکے آنے والی نسلوں کوایک محفوظ مستقبل دیناچاہتے ہیں۔کیونکہ اگرجنگ کادروازہ کھل گیاتواس کی آگ صرف سرحدوں تک محدودنہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے لے گی۔اوراگرتدبرکاچراغ جلایاگیاتویہی بحران شایداس خطے کیلئیامن کی ایک نئی صبح کاپیش خیمہ بھی بن سکتاہے۔تاریخ کی عدالت میں قوموں کافیصلہ صرف ان کی طاقت سے نہیں بلکہ ان کی بصیرت سے بھی ہوتاہے۔اورآنے والے دن یہ طے کریں گے کہ جنوبی ایشیاکی اس شطرنج میں کون سافریق
 صرف ایک مہرہ ثابت ہوگااورکون اپنی حکمت سے تاریخ کی بساط پر ایک نئی داستان رقم کرے گا۔
وقت کی عدالت خاموش نہیں رہتی۔وہ ہرقوم کے فیصلے کواپنے اوراق میں محفوظ کرلیتی ہے۔آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ جنوبی ایشیا کی اس بساط پرکون محض ایک مہرہ ثابت ہوگااورکون اپنی حکمت وبصیرت سے تاریخ کے افق پرایک نئی داستان رقم کرے گا۔اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب قوموں کویہ یادرکھناچاہیے کہ جنگیں میدان میں جیتنے سے پہلے دلوں میں جیتی جاتی ہیں، اور وہ قوم جس کے دل میں یقین کی آگ روشن ہو اسے شکست دینا تاریخ کے کسی لشکر کیلئے ممکن نہیں ہوتا۔