سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخ کبھی محض واقعات کاسلسلہ نہیں ہوتی؛وہ دراصل قوموں کے عزم،طاقت کے توازن اورعالمی سیاست کے پوشیدہ کھیل کی ایک زندہ دستاویزہوتی ہے۔جب مورخ قلم اٹھاتا ہے تووہ صرف حادثات کونہیں لکھتابلکہ اس پردہ غیب کوبھی ہٹانے کی کوشش کرتا ہے جس کے پیچھے عالمی طاقتیں اپنی بساط بچھاتی ہیں۔جنوبی ایشیااورمشرقِ وسطی کی سرزمین بھی صدیوں سے اسی خاموش مگرہولناک شطرنج کی بازی کامیدان بنی ہوئی ہے جہاں کبھی بادشاہ مات کھاتے ہیں اورکبھی پیادے قربان ہوجاتے ہیں۔
9مارچ 2026کوشائع ہونے والے میرے مضمون’’عالمی بساط کاخفیہ کھیل‘‘میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیاگیاتھا کہ خطے میں جوکچھ دکھائی دے رہاہے وہ اصل کھیل نہیں بلکہ اس کھیل کاصرف ایک سایہ ہے۔اس مضمون میں واضح کیاگیاتھاکہ پاکستان نے گزشتہ مہینوں میں خطے میں ایک ایساتعمیری کرداراداکیاجس نے نہ صرف ایک ممکنہ تباہ کن بحران کوروکابلکہ ایران کواس انجام سے بھی بچالیاجوکبھی شام کیمقدرمیں لکھ دیاگیاتھا۔عالمی طاقتوں کی ایک خفیہ حکمتِ عملی یہ تھی کہ ایران کوداخلی انتشار نسلی بغاوتوں اورمعاشی دباکے ذریعے کمزورکرکے اسے ایک نئے خانہ جنگی کے میدان میں دھکیل دیاجائے۔اس مقصدکیلئے منصوبہ یہ تھاکہ افغانستان میں موجودمختلف شدت پسند گروہوں کواستعمال کرتے ہوئے ایران کی سرحدوں پرعدم استحکام پیداکیاجائے اورپھراندرونی احتجاج کوہوادے کرتہران کی حکومت کومفلوج کردیاجائے۔
لیکن تاریخ کے بعض موڑایسے ہوتے ہیں جہاں ایک ریاست کی بصیرت پورے خطے کی تقدیربدل دیتی ہے۔پاکستان نے نہ صرف سفارتی سطح پربلکہ خفیہ اورعملی سطح پربھی ایسے اقدامات کیے جنہوں نے اس خطرناک منصوبے کوناکام بنادیا۔اطلاعات کے مطابق افغانستان میں موجودخراسان کے پچیس ہزارسے زائدشدت پسند،تحریک طالبان پاکستان کے بیس ہزارکے قریب جنگجو،اور بعض دیگرعناصرکوایک وسیع منصوبے کے تحت ایران کے خلاف استعمال کرنے کی تیاری کی جارہی تھی۔مقصدیہ تھاکہ ایران کواندرسے ٹکڑوں میں تقسیم کردیاجائے اورخطے میں ایک اورشام جیسی خونریزی پیداکرکے امت مسلمہ کوایک اورتاریک شام میں غرق کردیاجائے۔
اسی سلسلے میں ایک اورمنصوبہ بھی تیارکیاگیاتھاجس کے تحت سٹارلنک انٹرنیٹ کے ذریعے پروپیگنڈہ کی جنگ شروع کی جانی تھی۔اس مقصدکیلئے تقریباتیرہ ہزارسے زائدخصوصی ڈیوائسزافغانستان کے راستے ایران اورپاکستان کے سرحدی علاقوں میں اسمگل کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ سوشل میڈیااورڈیجیٹل نیٹ ورک کے ذریعے بڑے پیمانے پرعوامی بغاوت کومنظم کیاجا سکے۔لیکن پاکستان کی سکیورٹی اورانٹیلی جنس اداروں نے اس خفیہ منصوبے کوبروقت بے نقاب کرکے اسے ناکام بنادیا۔
یہ وہ لمحہ تھاجب عالمی بساط کے کھلاڑیوں کواحساس ہواکہ ان کامنصوبہ ناکام ہوچکاہے۔جب پراکسی جنگ،اطلاعاتی جنگ اور داخلی بغاوت کے منصوبے ناکام ہوجائیں تواکثر طاقتیں ایک آخری راستہ اختیارکرتی ہیںاوروہ ہے کھلی محاذآرائی۔چنانچہ وہی ہواجس کاخدشہ پہلے ہی ظاہرکیاجاچکاتھا۔جب ایران میں حکومت گرانے کامنصوبہ ناکام ہواتوخطے میں کشیدگی کوایک نئے مرحلے میں داخل کردیاگیا۔افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم مختلف دہشتگردگروہوں کودوبارہ متحرک کیاگیا اورسرحدی کشیدگی کوبتدریج عسکری تصادم کی طرف دھکیل دیاگیا۔
آج جوصورتحال ہم دیکھ رہے ہیںپاکستان کے شہروں پرڈرون حملوں کی کوششیں،سرحدی کشیدگی،اورپراکسی جنگ کابڑھتا ہواسایہوہ دراصل اسی عالمی بساط کااگلا مرحلہ ہے۔ گزشتہ دوہفتوں میں رونماہونے والے واقعات اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ خطہ ایک خطرناک دوراہے پرکھڑاہے جہاں ایک معمولی چنگاری بھی ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔یہی پس منظراس مضمون کوسمجھنے کیلئے نہایت اہم ہے۔یہ محض چندڈرونزکی کہانی نہیں بلکہ اس عالمی شطرنج کی ایک نئی چال ہے جس میں خطے کی تقدیر،عالمی طاقتوں کے مفادات اورایٹمی صلاحیت رکھنے والی ریاستوں کامستقبل داؤپرلگاہواہے۔
برصغیرکی تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ یہاں کی سرزمین ہمیشہ طاقت،سیاست اورنظریات کے تصادم کی آماجگاہ رہی ہے۔تاریخ کے اوراق جب کبھی سرحدوں کی کہانیاں بیان کرتے ہیں توان میں صرف نقشے کی لکیریں نہیں ہوتیں بلکہ قوموں کی تقدیر،سیاست کی نزاکت اورطاقت کے توازن کی داستانیں بھی ثبت ہوتی ہیں۔جنوبی ایشیاکی جغرافیائی ساخت بھی انہی پیچیدہ حقیقتوں کی آئینہ دارہے جہاں پہاڑوں کے دامن میں بستے ہوئے قبائل،میدانوں میں آبادریاستیں اورعالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے اس طرح الجھ جاتے ہیں کہ کبھی دوستی کی خوشبوفضامیں پھیلتی ہے اورکبھی بارودکی بوفضاکومکدرکردیتی ہے۔کبھی یہ خطہ سلطنتوں کے عروج وزوال کامنظرنامہ بنا،کبھی یہاں تہذیبوں کے سنگم نے نئے فکری افق پیداکیے،لیکن تاریخ کے اس طویل سفرمیں ایک حقیقت ہمیشہ نمایاں رہی کہ جب بھی سرحدوں کے پارسے آتشِ نزاع بھڑکی،اس کے شعلے نہ صرف میدانِ جنگ کوبلکہ معاشرتی اورسیاسی فضاکوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
افغانستان اورپاکستان کے تعلقات بھی اسی تاریخ کے تسلسل کاحصہ ہیں۔ایک طرف مشترک مذہبی وثقافتی رشتہ ہے،دوسری طرف سرحدی سیاست کی تلخ حقیقتیں۔گزشتہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے بادل وقفے وقفے سے منڈلاتے رہے، مگرحالیہ دنوں میں مبینہ ڈرون حملوں کے واقعات نے اس کشیدگی کوایک نئے مرحلے میں داخل کردیاہے۔ڈرون ٹیکنالوجی جدیدجنگ کاوہ خاموش ہتھیارہے جوبظاہرایک چھوٹے پرندے کی ماننددکھائی دیتاہے مگراس کے پروازکرتے ہی عالمی سیاست کے ایوانوں میں تشویش کی لہریں دوڑجاتی ہیں۔حالیہ دنوں میں پاکستان کے مختلف شہروں راولپنڈی،کوہاٹ اور کوئٹہمیں مبینہ طورپرافغان طالبان کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں نے ایک بارپھر اس حقیقت کواجاگرکردیاہے کہ جدید دنیامیں جنگ کاچہرہ بدل چکاہے۔اب توپ وتفنگ کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے پرندیڈرونبھی میدانِ کارزارمیں اترآئے ہیں۔
یہ حملے بظاہرمحدودنوعیت کے تھے،مگران کے سیاسی اورسفارتی مضمرات نہایت گہرے ہیں۔ایسے ڈرونزکی دراندازی نے صرف عسکری حلقوں ہی نہیں بلکہ سیاسی اورسماجی سطح پربھی ایک نئی بحث کوجنم دیاہے۔یہ رپورٹ انہی واقعات کے پس منظر،اسباب اورممکنہ نتائج کاتحقیقی وتاریخی جائزہ پیش کرتی ہے۔
ریاستی سیاست میں بعض اصول ایسے ہوتے ہیں جنہیں قومی وقارکی علامت سمجھاجاتاہے۔ان اصولوں کوعموماسرخ لکیرکہاجاتا ہے یعنی وہ حدجس کے بعدبرداشت کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔پاکستان کے مختلف شہروں میں مبینہ ڈرون حملوں کی کوشش کواسی تناظرمیں دیکھاجارہاہے۔پاکستان کیلئے یہ واقعہ محض چندڈرونزکی دراندازی نہیں بلکہ ایک علامتی پیغام ہے۔ریاستیں اپنی سلامتی کے حوالے سے کچھ بنیادی اصول وضع کرتی ہیں جنہیں عرفِ عام میں ریڈ لائن کہاجاتاہے۔جب کوئی بیرونی قوت ان خطوط کوعبورکرتی ہے تویہ محض عسکری چیلنج نہیں بلکہ ریاستی وقارکیلئے بھی امتحان بن جاتاہے۔
یہ واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ماضی میں پاکستان اورافغانستان کے درمیان کشیدگی زیادہ ترسرحدی علاقوں تک محدودرہی لیکن جب کسی تنازع کاسایہ بڑے شہروں کی فصیلوں تک پہنچ جائے تواس کے معنی بدل جاتے ہیں۔اس صورت میں مسئلہ صرف فوجی نہیں رہتابلکہ نفسیاتی اورسیاسی بھی بن جاتاہے۔افغان طالبان کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں کو پاکستان نے اسی تناظرمیں دیکھاہے۔اسلام آبادکے ایوانوں میں یہ سوال شدت کے ساتھ اٹھ رہاہے کہ اگرایک پڑوسی حکومت براہِ راست پاکستانی شہروں کو نشانہ بنانے کی جرأت کرسکتی ہے تواس کامطلب یہ ہے کہ علاقائی سیاست کامنظرنامہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہورہاہے۔(جاری ہے)