پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کیلئے اپنا مثبت اور تعمیری کردار جاری رکھے گا:وزیراعظم کی ٹیلیفونک گفتگو میں یقین دہانی
سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین پٹرول کے استعمال پر پابندی‘ہائی اوکٹین ڈالنا ناگزیر ہے تو استعمال کرنے والا اپنی جیب سے ڈلوا سکتا ہے:شہبازشریف
اسلام آباد ( آن لائن‘آئی این پی ) وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے ایرانی صدر اور برادر عوامِ ایران کو عیدالفطر اور نوروز کی دلی مبارکباد پیش کی، جس کا ایرانی صدر نے پرتپاک انداز میں جواب دیتے ہوئے پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔بطور ہمسایہ برادر ملک، وزیراعظم نے موجودہ کشیدگی کے تناظر میں ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں اور متاثرین کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔گفتگو کے دوران وزیراعظم نے خلیجی خطے میں جاری تشویشناک صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارتکاری کی طرف فوری واپسی پر زور دیا، تاکہ مسائل کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔انہوں نے اس موقع پر امتِ مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ موجودہ حالات میں مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔وزیراعظم نے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے ایرانی قیادت کو آگاہ کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار جاری رکھے گا۔دریں اثناء وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین پیٹرول کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ ایک بیان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس پابندی کا اطلاق فی الفور ہو گا۔ سرکاری گاڑی میں ہائی اوکٹین ڈلوانا ناگزیر ہے تو استعمال کرنے والا اپنی جیب سے ڈلوا سکتا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ سرکاری خرچ پر ہائی اوکٹین کے استعمال پر سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد قومی وسائل کے موثر اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام وفاقی محکمے، اتھارٹیز اور ذیلی ادارے اس فیصلے پر فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کفایت شعاری پالیسی سے غیرضروری اخراجات میں کمی لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔