اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں سے متعلق اہم فیصلہ دیا ہے۔
عدالت نے عمران خان سے منگل اور جمعرات کو دو دن کی ملاقات بحال کرنے کا حکم دیا ہے، تاہم اس ملاقات کے دوران میڈیا ٹاک کرنے پر پابندی عائد کی ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ فیصلہ ان درخواستوں پر کیا جن میں عمران خان کی جیل ملاقاتوں کی اجازت کی درخواست کی گئی تھی۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ جو بھی شخص عمران خان سے ملاقات کرے گا، وہ میڈیا کے سامنے بات نہیں کر سکے گا۔ اس کے علاوہ، عمران خان کے کوآرڈینیٹر سلمان اکرم راجہ ہی ملاقات کرنے والوں کے نام فراہم کریں گے، اور صرف وہی لوگ ملاقات کر سکیں گے۔
قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اس بات کی وضاحت کی کہ اگر عمران خان کی ملاقات ان کے بچوں سے کرنی ہو تو اس کے لیے ٹرائل کورٹ سے درخواست دی جائے۔ اس سماعت میں لارجر بینچ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس محمد اعظم شامل تھے۔یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ملاقاتوں کا عمل جیل حکام کی نگرانی میں اور بغیر کسی میڈیا مداخلت کے ہوگا، تاکہ ان ملاقاتوں کا مقصد غیر ضروری تشہیر یا سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہ ہو۔