ملبوسات کی برآمد 6.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی،ڈائریکٹر جنرل ٹیکسٹائل
کپاس کی پیداوار میں کمی، وزیر تجارت جام کمال کی زیر صدارت اجلاس
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان کی صدارت میں وزارت تجارت میں ایک داخلی اجلاس منعقد ہوا، جس میں قومی برآمدات کے فروغ اور تجارتی شعبے کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اسپیشل سیکرٹری تجارت شکیل احمد منگیجو اور ڈائریکٹر جنرل (ٹیکسٹائل) مدثر رضا صدیقی بھی شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل (ٹیکسٹائل) نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عالمی اقتصادی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت بحالی کی راہ پر گامزن ہے۔ مالی سال 2024-25 کے پہلے آٹھ ماہ میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی شرح نمو 9.3 فیصد رہی، جبکہ ملبوسات کی برآمدات 19 فیصد اضافے کے ساتھ 6.2 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئیں۔ڈائریکٹر جنرل (ٹیکسٹائل)کے مطابق پاکستان جو کبھی دنیا کا تیسرا بڑا کپاس پیدا کرنے والا ملک تھا، اب چھٹے نمبر پر آ چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور برازیل کی زرعی اراضی تقریباً برابر ہونے کے باوجود برازیل کی فی ایکڑ پیداوار پاکستان سے تین گنا زیادہ ہے۔ اس فرق کی بنیادی وجوہات میں جدید ٹیکنالوجی کے حامل بیج، میکانائزڈ فارمنگ، بارانی آبپاشی، اور قابل تجدید توانائی کا استعمال شامل ہیں۔وزیر تجارت جام کمال خان نے اس موقع پر کہا کہ بیماریوں سے محفوظ، موسمیاتی اثرات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے بیجوں کا استعمال، غیر معیاری بیجوں اور کیمیکلز پر پابندی، اور زرعی پیداوار کے جدید طریقے مقامی کپاس کی پیداوار اور کاشتکاروں کے منافع میں اضافے کے لیے ناگزیر ہیں۔