اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کشمیر میں حالات بگڑ چکے ہیں اور ریاست کی پالیسی واضح ہے، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ تمام مسائل سیاسی طریقے سے حل ہوں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی نہ پہلے کشمیر میں انتخابات ملتوی کرانا چاہتی تھی اور نہ آج ایسی کوئی خواہش رکھتی ہے۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت پر عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا، جس پر وہ وزیراعظم شہباز شریف اور ن لیگ کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے وزیراعلیٰ اور اسپیکر کو ووٹ دیا، جبکہ قانون ساز اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر ن لیگ سے ہوگا۔بلاول بھٹو نے استحکام پاکستان پارٹی، مجلس وحدت مسلمین اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل حل کیے جائیں گے۔انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے باعث پاکستانیوں پر معاشی بوجھ بڑھا ہے، اس لیے خطے میں امن کا قیام پاکستان کے مفاد میں ہے تاکہ عوام پر معاشی دباؤ کم کیا جا سکے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات جنگ سے پہلے بھی اچھے تھے، تاہم حالیہ صورتحال کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالات سازگار ہونے پر پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کیا جانا چاہیے، جس کی بنیاد صدر آصف علی زرداری کے دور میں رکھی گئی تھی۔کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ کشمیر میں ایسے حالات نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کے بقول حکومت اور ریاست کی پالیسی واضح ہے، جبکہ عوام اور احتجاج کرنے والے گروہوں کے مسائل بھی سب کے سامنے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ تمام معاملات سیاسی انداز میں حل کیے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کلبھوشن یادیو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے آیا تھا، سیر و تفریح کے لیے نہیں۔ بلاول کے مطابق بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ پاکستان کے لیے نقصان دہ ہے اور اس گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی اور اسرائیلی سازشوں کا آسان ہدف بلوچستان بنتا رہا ہے، جبکہ کلبھوشن یادیو بھی بلوچستان میں علیحدگی پسندوں اور دہشت گرد عناصر کی معاونت کے لیے آیا تھا۔