قومی اسمبلی میں شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان دلچسپ مکالمہ

قومی اسمبلی میں شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان دلچسپ مکالمہ

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر کے دوران وزیراعظم شہباز شریف ایوان میں پہنچے اور اپوزیشن بینچوں پر جا کر محمود خان اچکزئی، مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر رہنماؤں سے مصافحہ کیا، جبکہ بلاول بھٹو زرداری بھی وزیراعظم کی نشست پر جا کر ان سے ملے۔اجلاس میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے سوال اٹھایا کہ کیا جلسوں میں نواز شریف کنٹینر پر کھڑے ہو کر آرمی چیف اور فوج کے خلاف تقاریر نہیں کرتے تھے؟ کیا وہ فوج کو محکمہ زراعت نہیں کہا کرتے تھے؟مولانا فضل الرحمٰن کی گفتگو کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اپنی نشست پر کھڑے ہوئے اور کہا کہ مولانا صاحب ہم سب کے لیے انتہائی قابل احترام ہیں، میرے ان سے بہترین تعلقات ہیں اور وہ ہمیشہ شفقت فرماتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اکثر مولانا کے پاس قدم بوسی کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی تقریر کے آخر میں جو باتیں کیں، ان کے حوالے سے وہ صرف اتنا کہیں گے کہ ہمارے درمیان تنہائی میں جو گفتگو ہوئی، اس پر بات نہیں کروں گا کیونکہ وہ باتیں قبر تک میرے ساتھ جائیں گی۔اس پر مولانا فضل الرحمٰن نے برجستہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر تنہائی میں کوئی بات ہوئی ہے تو وزیراعظم کو یہاں اس کے ذکر کی اجازت ہے۔مولانا کے جواب پر وزیراعظم شہباز شریف نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ یہ پیشکش قبول نہیں کریں گے، کیونکہ اگر وہ بات کریں گے تو بات بہت دور تک جائے گی اور پھر معاملات واپس نہیں آئیں گے۔