جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے بیٹے مولانا اسجد الرحمٰن کو ایک ہفتہ قبل اغواء کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ محفوظ رہے۔
واقعے کی تفصیلات:
پولیس کے مطابق مولانا اسجد الرحمٰن کو یارک انٹرچینج کے قریب نامعلوم افراد نے روکا۔واقعے کے وقت وہ شورکوٹ سے لکی مروت اپنی رہائش گاہ جا رہے تھے۔نامعلوم افراد کی جانب سے انہیں گاڑی سے اترنے پر مجبور کیا گیا، تاہم مولانا اسجد کے انکار اور بحث کے بعد اغواکار انہیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
قانونی کارروائی:
پولیس کا کہنا ہے کہ مولانا اسجد الرحمٰن کی جانب سے اغواء کی کوشش کا کوئی مقدمہ درج نہیں کروایا گیا۔تاہم کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
جے یو آئی مؤقف:
جے یو آئی کے ترجمان کے مطابق:
"ایس پی پہاڑ پور نے رابطہ کر کے مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم ہم نے مؤقف اختیار کیا کہ انتظامیہ خود مدعی بنے، ہماری جانب سے مقدمے میں فریق بننے کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔"
تجزیہ:
یہ واقعہ نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کی سیکیورٹی پر سوالات بھی کھڑے کرتا ہے۔ واقعے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ:
معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کریں۔جے یو آئی قیادت کو سیکیورٹی فراہم کریں۔ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لائیں۔