ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ ایران کے صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا ایک روزہ خصوصی دورہ کیا، جس کے دوران انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دورے میں پاک ایران تعلقات، دوطرفہ تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ دونوں ممالک کی قیادت نے مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے باضابطہ ملاقات میں دونوں ملکوں کی قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات کو تجارت، توانائی، سرحدی تعاون اور علاقائی روابط کے شعبوں میں مزید وسعت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے تہران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔طاہر حسین اندرابی نے بریفنگ میں ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کا انعقاد ہوا، جبکہ 21 جون کو ان مذاکرات کا دوسرا دور بھی منعقد کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ مذاکرات اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد ہونے والے عمل کا حصہ ہیں، جس میں پاکستان نے سہولت کار اور رابطہ کار کا کردار ادا کیا۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق برگن اسٹاک میں ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستان، قطر، ایران اور امریکا کے اعلیٰ سطحی وفود شریک ہوئے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی پاکستان کی نمائندگی کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچے تھے۔
ترجمان کے مطابق ان مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے تین خصوصی تکنیکی ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیے گئے ہیں۔ ان میں پہلا گروپ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کا جائزہ لے رہا ہے، دوسرا گروپ پابندیوں، اقتصادی ریلیف اور منجمد اثاثوں سے متعلق امور پر کام کر رہا ہے، جبکہ تیسرا گروپ لبنان کی صورتحال اور اس سے متعلق سکیورٹی و سیاسی معاملات کا جائزہ لے رہا ہے۔ عالمی میڈیا اور علاقائی رپورٹس کے مطابق برگن اسٹاک مذاکرات میں جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور لبنان کی صورتحال واقعی مرکزی نکات کے طور پر زیر بحث آئے، جبکہ فریقین نے تکنیکی سطح پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ ان ورکنگ گروپس کی سفارشات کی روشنی میں مذاکرات کے آئندہ مراحل کو آگے بڑھایا جائے گا اور پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کے فروغ کے لیے اپنی تعمیری کوششیں جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام فریقین کے درمیان مکالمے، اعتماد سازی اور تعاون کی حمایت کرتا رہے گا، کیونکہ موجودہ علاقائی کشیدگی کا پائیدار حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہی پوشیدہ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے رابطوں کے دوران باہمی دلچسپی کے متعدد امور اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کے بقول اس پیشرفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق 21 جون کے مذاکرات میں دونوں فریقوں نے ایک 60 روزہ روڈ میپ اور تکنیکی مذاکراتی عمل پر اتفاق کیا، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے، اور عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور تعمیری کردار کی ستائش کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان مستقبل میں بھی علاقائی امن کے قیام کے لیے فعال اور مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ ترجمان نے ثالثی کے عمل میں پاکستانی میڈیا کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ قومی میڈیا نے حساس سفارتی پیشرفت کے دوران ذمہ داری، احتیاط اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا، جس سے امن کوششوں کو تقویت ملی۔
طاہر حسین اندرابی نے بریفنگ میں یہ بھی بتایا کہ مذاکراتی عمل کے اگلے مراحل میں پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں امریکا اور ایران کی متعلقہ ٹیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں گی، تاکہ مختلف امور پر پیشرفت کو یقینی بنایا جا سکے اور ورکنگ گروپس کے کام میں سہولت فراہم ہو۔ ان کے مطابق 21 جون کو پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، برگن اسٹاک مذاکرات کے نتائج اور آئندہ لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ صومالیہ کے ساحلی علاقے میں چند پاکستانی شہریوں کو یرغمال بنائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس معاملے پر صومالیہ کے حکام اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور یرغمال پاکستانیوں کی محفوظ بازیابی کے لیے سفارتی اور قونصلر سطح پر تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق حکومت پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے اور اس معاملے میں پیشرفت سے متعلق متعلقہ خاندانوں اور عوام کو مناسب وقت پر آگاہ کیا جائے گا۔