اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں اہم قومی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی بیان دیا۔
انہوں نے افغانستان میں دہشت گرد عناصر، بھارت کے ساتھ پانی کے معاہدے، اقلیتوں کے حقوق، اور بین الاقوامی فورسز میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے موقف واضح کیا۔
افغانستان میں دہشت گرد عناصر
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی خطے کے امن و سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور یہ عناصر افغانستان میں داخلی استحکام اور ترقی کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس افغانستان میں مختلف دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں۔رپورٹ میں ٹی ٹی پی اور دیگر غیر ملکی دہشت گرد عناصر کا خصوصی ذکر ہے، جو پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتی ہیں۔دہشت گرد عناصر کی موجودگی سرحدی کشیدگی، فائربندی کی غیر موجودگی، بارڈر بندش اور تجارت کے تعطل کا سبب بنتی ہے۔پاکستان کے پاس دہشت گردوں کی تعداد، شناخت، مالی معاونت اور افغان سرزمین پر انہیں حاصل ہونے والی سہولت کے حوالے سے قابل اعتماد شواہد موجود ہیں۔پاکستان اور افغانستان کے سفارتی چینلز فعال ہیں، اور دوطرفہ مسائل باقاعدگی سے زیرِ بحث آتے ہیں۔
بھارت کے ساتھ پانی کے مسائل
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔7 دسمبر سے دریائے چناب میں پانی کی غیر معمولی سطح دیکھی گئی ہے۔بھارت کی جانب سے بغیر پیشگی اطلاع پانی چھوڑنا انڈس واٹر ٹریٹی کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔پاکستان نے انڈس واٹر کمیشن کے ذریعے بھارت سے وضاحت طلب کی ہے۔زرعی سیزن میں دریا کے بہاؤ میں تبدیلی عوامی زندگی اور غذائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔پاکستان بھارت سے یکطرفہ اقدامات سے باز رہنے اور معاہدے پر نیک نیتی سے عمل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
بھارت میں اقلیتوں کے حقوق
ترجمان دفتر خارجہ نے بہار کے وزیراعلیٰ کے ایک واقعے پر بھی تبصرہ کیا، جس میں ایک مسلم خاتون کا حجاب کھینچا گیا:انہوں نے اسے شرمناک اور غیر انسانی فعل قرار دیا۔بھارت میں اقلیتوں کو ناروا سلوک اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کا سامنا ہے۔پاکستان اقلیتوں کے حقوق اور انسانی وقار کے تحفظ کا مطالبہ کرتا ہے۔یہ واقعات بھارت میں اسلاموفوبیا اور عدم برداشت کی عکاسی کرتے ہیں۔
بونڈی بیچ حملہ اور میڈیا رپورٹنگ
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا:پاکستان نے بونڈی بیچ میں مذہبی اجتماع پر حملے کی شدید مذمت کی۔اس حملے سے پاکستان کو جوڑنا افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ایک پاکستانی کا نام اور تصویر بغیر تصدیق کے میڈیا میں دکھائی گئی، جس سے ایک بے گناہ فرد اور اس کے خاندان کو خطرات لاحق ہوئے۔بعد ازاں حملہ آور بھارتی نژاد اور پاسپورٹ ہولڈر نکلا۔انہوں نے بھارتی میڈیا کی غیر ذمہ دار رپورٹنگ پر تنقید کی اور کہا کہ میڈیا کو ذمہ دارانہ اور پیشہ ورانہ رویہ اپنانا چاہیے۔
آئی ایس اے ایف میں پاکستان کی شرکت
پاکستان نے تاحال آئی ایس اے ایف میں شرکت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔کسی مخصوص درخواست یا فورس سے متعلق پاکستان کو آگاہ نہیں کیا گیا۔آئی ایس اے ایف سے متعلق کسی بھی پیش رفت پر بروقت عوام کو اطلاع دی جائے گی۔پاکستان نے بین الاقوامی استحکام فورس سے متعلق کچھ عالمی دارالحکومتوں میں مشاورت کی ہے۔
علاقائی تعاون اور میٹنگیں
ایران میں ہونے والی علاقائی میٹنگ میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی پر بات ہوئی۔اجلاس میں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کا معاملہ وسیع تناظر میں زیر بحث آیا۔تہران میں ہمسایہ ممالک کے خصوصی نمائندوں کا اجلاس علاقائی میکنزم کا حصہ تھا۔پاکستان خطے میں مسلسل سفارتی رابطوں اور مشاورت کی حمایت کرتا رہے گا۔