لاہور ہائیکورٹ کا حق مہر سے متعلق بڑا فیصلہ، رخصتی نہ ہونے کے باوجود بیوی حق مہر کی حقدار قرار

لاہور ہائیکورٹ کا حق مہر سے متعلق بڑا فیصلہ، رخصتی نہ ہونے کے باوجود بیوی حق مہر کی حقدار قرار

لاہور ہائیکورٹ نے حق مہر سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ رخصتی نہ ہونے کے باوجود بیوی حق مہر کی حقدار ہوگی، جبکہ نکاح نامے میں “عندالطلب” درج حق مہر فوری طور پر واجب الادا سمجھا جائے گا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اگر نکاح نامے میں حق مہر کے لیے “عندالطلب” لکھا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ بیوی جب مطالبہ کرے، شوہر پر اس کی ادائیگی لازم ہوگی۔ عدالت نے واضح کیا کہ رخصتی نہ ہونا حق مہر کی ادائیگی سے استثنا نہیں دیتا۔لاہور ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کے حق مہر سے متعلق فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیلٹ کورٹ کا وہ فیصلہ بھی ختم کر دیا جس میں رخصتی نہ ہونے کی بنیاد پر خاتون کا حق مہر خارج کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ حق مہر بیوی کا قانونی اور شرعی حق ہے، جسے محض رخصتی نہ ہونے کی بنیاد پر سلب نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں خلع سے متعلق بھی اہم وضاحت کی گئی۔ عدالت کے مطابق خلع کی صورت میں خاتون پورے معجل حق مہر کی نہیں بلکہ 75 فیصد کی حقدار ہوگی، جبکہ 25 فیصد شوہر کے حق میں چھوڑنا ہوگا۔ یہ تشریح فیملی کورٹ ایکٹ کے تناظر میں کی گئی ہے۔یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے مسماۃ ازکا آفرین کی آئینی درخواست پر جاری کیا، اور اسے عدالتی نظیر بھی قرار دیا گیا ہے۔ اس بنا پر مستقبل میں حق مہر اور خلع سے متعلق مقدمات میں اس فیصلے کا حوالہ دیے جانے کا امکان ہے۔