پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینئر رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے دائر کی گئی دو مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا نہ جا سکا۔
وجہ تاخیر:
لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت کے متعلقہ جج رخصت پر ہونے کے باعث، ڈیوٹی جج عرفان حیدر نے آج (پیر) کی سماعت میں فیصلہ سنانے کے بجائے کارروائی 28 جون 2025 تک موخر کر دی۔
مقدمات کی تفصیل:
ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف لاہور کے تھانہ سرور روڈ میں درج دو الگ الگ مقدمات (نمبر 108/23 اور 109/23) میں الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر پولیس کی گاڑیاں جلانے اور پرتشدد احتجاج میں ملوث رہیں۔
عدالتی کارروائی:
دونوں مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر دلائل مکمل کیے جا چکے ہیں۔عدالت نے سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔اب یہ فیصلہ 28 جون کو سنایا جائے گا۔
پس منظر:
یہ مقدمات 9 مئی کے واقعات کے تناظر میں درج کیے گئے تھے، جب پی ٹی آئی چیئرمین کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں مظاہرے اور ہنگامے ہوئے۔ یاسمین راشد کو ان مظاہروں میں مبینہ طور پر قیادت اور اشتعال انگیزی کے الزامات کا سامنا ہے۔
نتیجہ:
ڈاکٹر یاسمین راشد کی رہائی کا معاملہ 28 جون تک لٹک گیا ہے، جس سے نہ صرف ان کے سیاسی مستقبل بلکہ پارٹی کی اندرونی صف بندی پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔