خواجہ آصف نے کہا کہ ایران-اسرائیل کے درمیان جو سیز فائر ہوا ہے وہ قابل تعریف اقدام ہے، اس نے کشیدگی کم کی اور خطے میں امن کے امکانات بڑھائے ۔
ایران کی ہمت و شجاعت کو سراہا
اُنہوں نے ایران کے مقابلے کو شجاعانہ اور جارحانہ قرار دیا، اور ایرانی حکومت و عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا کہ انہوں نے بڑے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔
مسلمانوں کی دو "فتوحات" کا ذکر
وزیر نے کہا کہ پاکستان کو بھارت پر، اور ایران کو اسرائیل پر فتح نصیب ہوئی۔ یہ دونوں کامیابیاں عالمِ اسلام کے لیے باعثِ امید ہیں ۔
خدا سے دعا کی اپیل
بیان کے آخر میں انہوں نے مسلمانوں خصوصاً غزہ کے لیے دعا کی کہ اللہ ان پر رحم کرے ۔
پس منظر اور بین الاقوامی صورتحال
جنگ بندی
امریکا کے صدر نے 12 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا، جسے اسرائیل نے تسلیم کیا۔ تاہم کچھ گھنٹوں کے اندر دونوں جانب سے میزائل حملے رپورٹ ہوئے، اور اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران پر نئے حملوں کا حکم دیا ہے ۔
بین الاقوامی ردعمل
اقوام متحدہ، یورپی ممالک، اور قطر ثالثی کر رہے ہیں، مگر کشیدگی برقرار ہے۔ عالمی فورمز پر خطے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے خدشات کا اظہار ہو رہا ہے ۔
تجزیہ
خواجہ آصف نے سیاسی بیان دینے کے ساتھ مذہبی بیانیہ بھی استعمال کیا، خاص طور پر "دو فتوحات" کا لفظ مسلمانوں میں جذبہ بیدار کرنے کے لیے کثرت سے استعمال کیا گیا۔ان کا یہ موقف پاکستان کی ماضی میں غیرجانبدار ساخت کے برخلاف نسبتا سخت موقف کی نمائندگی کرتا ہے۔بیان نے پاکستان میں اختلافی سیاسی بحث کو بھی جنم دیا — کچھ حلقے وزیر کی وطن پرستانہ اور مذہبی شیرازے میں تقسیم کرتے ہیں، جبکہ بعض نے اسے خطے میں مذہبی کشیدگی بڑھانے والا قرار دیا۔