شملہ معاہدہ ختم، کنٹرول لائن اب سیز فائر لائن ہے: وزیر دفاع خواجہ آصف

شملہ معاہدہ ختم، کنٹرول لائن اب سیز فائر لائن ہے: وزیر دفاع خواجہ آصف

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے اعلان کیا ہے کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات کے باعث پاکستان شملہ معاہدے کو ختم شدہ تصور کرتا ہے، اور اب لائن آف کنٹرول (ایل او سی) دوبارہ 1948ء کی سیز فائر لائن کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔

خواجہ آصف نے گفتگو میں کہا کہ "ہم واپس 1948ء والی پوزیشن پر آ چکے ہیں، جب یہ لائن سیز فائر لائن کہلاتی تھی۔ اب شملہ معاہدے کا کوئی وجود نہیں رہا۔"

بھارت کے اقدامات کے بعد شملہ معاہدہ غیر مؤثر
وزیر دفاع کے مطابق، بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اور یکطرفہ اقدامات کر کے شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد یہ معاہدہ اپنی قانونی اور اخلاقی حیثیت کھو چکا ہے۔ "ہم نے پہلے ہی بھارت کو خبردار کیا تھا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو معاہدوں کی وقعت نہیں رہے گی،" انہوں نے کہا۔

سیز فائر لائن کی حیثیت بحال
خواجہ آصف نے کہا کہ 1948 کے بعد جب رائے شماری کی قراردادیں آئیں، تب یہ لائن سیز فائر لائن کہلائی جاتی تھی، جو اقوام متحدہ کی نگرانی میں قائم تھی۔ اب چونکہ شملہ معاہدہ باقی نہیں رہا، اس لیے یہ لائن ایک بار پھر اپنی اصل حیثیت یعنی سیز فائر لائن میں تبدیل ہو گئی ہے۔

شملہ معاہدے کی نوعیت
انہوں نے واضح کیا کہ شملہ معاہدہ دو طرفہ نوعیت کا تھا اور اس میں کوئی تیسرا فریق شامل نہیں تھا۔ "اس معاہدے میں نہ ورلڈ بینک تھا، نہ اقوام متحدہ، یہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان تھا۔"

سندھ طاس معاہدہ برقرار
شملہ معاہدے کے برعکس، خواجہ آصف نے سندھ طاس معاہدے کے بارے میں کہا کہ "کوئی بھی فریق اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا۔ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس میں ورلڈ بینک ضامن ہے۔"انہوں نے بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ میں مرضی سے رکاوٹیں ڈالنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ بھارت کبھی 6 ہزار تو کبھی 25 ہزار کیوسک پانی چھوڑتا ہے، جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان کا مؤقف واضح
وزیر دفاع نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان اپنے مؤقف پر قائم ہے، اور بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے بعد کسی بھی سابقہ معاہدے کی قانونی و سیاسی حیثیت نہیں رہی۔