غزہ سیز فائر معاہدہ طے ہونے کے چند گھنٹوں بعد اسرائیل کے نئے حملے، 32 افراد شہید

غزہ سیز فائر معاہدہ طے ہونے کے چند گھنٹوں بعد اسرائیل کے نئے حملے، 32 افراد شہید

قطری دارالحکومت دوحہ میں غزہ کے لیے سیز فائر معاہدے کے بعد اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

 بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تازہ ترین اسرائیلی فضائی حملوں میں 32 افراد شہید ہو گئے ہیں۔

یہ معاہدہ حماس اور اسرائیل کے درمیان 15 ماہ سے جاری جنگ کے بعد طے پایا ہے، جس میں قطر، مصر اور امریکا کا تعاون شامل تھا۔ معاہدے کے تحت 6 ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے، اور اس میں دونوں فریقوں کے درمیان یرغمالیوں کے تبادلے اور اسرائیلی فوج کی غزہ سے واپسی کے متعلق بھی اہم نکات شامل ہیں۔سیز فائر معاہدے کے تحت، دونوں فریقوں کو جنگ بندی کی پابندی کرنی تھی، مگر اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر حملوں کا آغاز ہونے کے بعد اس معاہدے کی کامیابی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

 غزہ میں کام کرنے والے طبی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ حملوں کے دوران مزید انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے، جس سے علاقے کی صورتحال بدتر ہو گئی ہے۔اس معاہدے کی توقع کی جا رہی تھی کہ یہ دونوں فریقوں کے درمیان امن کی راہ ہموار کرے گا، مگر اسرائیلی حملوں کے بعد اس کی کامیابی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔