وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر جاری سیز فائر کا کوئی مخصوص دورانیہ یا مدت مقرر نہیں کی گئی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاملے میں کوئی حد بندی نہیں ہے اور یہ کہ جاری سیز فائر کسی بھی وقت ختم یا توسیع ہو سکتی ہے، اس کا انحصار حالات اور معاہدے کی پاسداری پر ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے بار بار یہ موقف اپنایا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی صورت میں دراندازی یا دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، اور ٹی ٹی پی (تحریکِ طالبان پاکستان) کو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغانستان اس بات سے انکار کرتا ہے کہ وہ ایسی سہولیات فراہم کر رہا ہے، جبکہ ترکیہ اور قطر نے اس مسئلے پر زور دیا ہے کہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین یا سرپرستی پاکستان میں ٹی ٹی پی کو فعال رکھنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے افغانستان کو واضح طور پر بتایا ہے کہ سیز فائر کی مدت کوئی بھی مخصوص تاریخ سے محدود نہیں ہے، اور اس کا انحصار معاہدے کی پاسداری اور حالات پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، جنگ بندی کا معاہدہ برقرار رہے گا، اور کوئی بھی فیصلہ حالات کے مطابق لیا جائے گا۔خواجہ آصف نے اس بات کو بھی دہرایا کہ پاکستان کسی بھی صورت میں سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے پرعزم ہے اور تمام متعلقہ فریقین سے امن و استحکام کے لیے تعاون کی توقع ظاہر کی ہے۔