گڈز ٹرانسپورٹرز کا کاروبار بند کرنیکی دھمکی

سروس معطل ہوئی تو معیشت ، سپلائی چین شدید متاثر ہو گی،فیاض مگوں،رانا عاصم
 لاہور(کرائم رپورٹر)فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ ہنگامی نیوز کانفرنس میں گڈز ٹرانسپورٹرز نے وفاقی بجٹ 2025-26ء￿  میں ود ہولڈنگ ٹیکس میں اضافے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کیلئے کاروبار بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ فیڈریشن کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے فیڈریشن ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز پر ود ہولڈنگ ٹیکس کو 4 فیصد سے بڑھا کر 6 فیصد کر دیا گیا ہیجو سراسر زیادتی ہیان کا کہنا تھا کہ یہ شعبہ ملکی مجموعی پیداوارمیں 12 فیصد حصہ رکھتا ہے اور پہلے ہی بحران سے دوچار ہیایسے میں مزید بوجھ ناقابل قبول ہے۔انہوں نے بتایا کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر مجموعی طور پر پہلے ہی 35 سے 40 فیصد تک مختلف ٹیکسز ادا کر رہا ہیاور مزید بوجھ اس شعبے کی بقا کیلئے خطرہ بن جائے گا۔چیئرمین فریٹ آپریٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان، رانا عاصم شکور نے کہا کہ اگر حکومت نے اضافی ود ہولڈنگ ٹیکس واپس نہ لیا تو گڈز ٹرانسپورٹرز مجبوراً ملک بھر میں غیر معینہ مدت کیلئے کاروبار بند کر دیں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ بجٹ کی منظوری کی صورت میں کاروبار بند کرنے کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا۔اس موقع پر چیئرمین آل پاکستان کار کیریئرز ایسوسی ایشن امداد حسین نقوی نے لوڈنگ چیکنگ سسٹم کی خامیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کراچی سے یومیہ 10 ہزار گاڑیاں لوڈ ہوتی ہیں لیکن صرف 1400 گاڑیوں کی چیکنگ ہو پاتی ہیجو ایک ناقص نظام کی نشاندہی کرتا ہیان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ لوڈنگ کو چیک کرنے کا کوئی مئوثر اور شفاف میکانزم موجود نہیں ہے اس موقع پر رانا عاصم شکور نے مزید بتایا کہ اس وقت ملک بھر میں ساڑھے تین لاکھ گڈز ٹرانسپورٹ گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں اور اگر ان تمام گاڑیوں کی سروس معطل ہوئی تو قومی معیشت اور سپلائی چین شدید متاثر ہو گی۔