ڈیزل و پٹرول کی قیمتوں میں تعین کا طریقہ کار 24گھنٹوں میں فیصلہ واپس نہ ہواتوپہیہ جام کردینگے،گڈزٹرانسپورٹرز
کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی گڈز کیریئرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے ڈیزل و پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام کر دیا جائے گا، دفاتر بند کر دیے جائیں گے اور تمام بڑی ٹرانسپورٹ تنظیموں کے ساتھ مل کر ملک گیر احتجاج شروع کر دیا جائے گا۔یہ اعلان جنرل سیکرٹری ندیم اختر آرائیں نے ایسوسی ایشن کے صدر ملک شیر خان، وائس چیئرمین اور نائب صدر ایاز خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ٹرانسپورٹ سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر اس شعبے کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور ڈیزل و پٹرول کی قیمتوں میں بار بار اضافے نے ٹرانسپورٹرز کو شدید مالی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں عوام اور ٹرانسپورٹرز کو اس کا فائدہ نہیں پہنچایا جاتا، جس کے باعث ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، حکومت کی موجودہ پالیسیوں نے نہ صرف ٹرانسپورٹ انڈسٹری بلکہ مجموعی معیشت کو بھی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ندیم اختر آرائیں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب، بلوچستان، آزاد کشمیر اور دیگر علاقوں میں گڈز ٹرانسپورٹ سے وابستہ ڈرائیوروں اور گاڑی مالکان کو مختلف اداروں کی جانب سے غیر ضروری چیکنگ، بھاری جرمانوں، مبینہ رشوت ستانی اور ہراساں کیے جانے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا اگر حکومت نے مطالبات پر فوری توجہ نہ دی تو ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ بند ہونے سے کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر بندرگاہوں سے درآمدی و برآمدی سامان کی ترسیل، تیل کی سپلائی، خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل شدید متاثر ہوگی، جس سے ملکی معیشت اور عوام دونوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔