واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ایسے میزائل تیار کر چکا ہے جو یورپ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور سان ڈیاگو، لاس اینجلس سمیت امریکا کے دیگر شہروں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا اور یہ اقدام بہت پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔امریکی ریاست مسیسیپی میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے میزائل پروگرام اور امریکا ایران جنگ سے متعلق اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ شروع نہیں کی بلکہ ان کے بقول ایران نے امریکا کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔ٹرمپ نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تہران نے ایسے میزائل تیار کر لیے ہیں جن کی رسائی یورپ تک ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے میزائل امریکی شہروں کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں، جن میں سان ڈیاگو اور لاس اینجلس شامل ہیں۔تاہم، ایران کے پاس ایسے میزائلوں کی موجودگی اور ان کی یورپ یا امریکا کے شہروں تک پہنچنے کی صلاحیت سے متعلق صدر ٹرمپ کے دعووں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں۔ میزائلوں کی اصل رینج اور عملی صلاحیت کا تعین متعلقہ تکنیکی شواہد اور دفاعی جائزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا دفاع
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایران کی جانب سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے کارروائی ضروری تھی اور اسے پہلے ہی انجام دیا جانا چاہیے تھا۔ٹرمپ نے اس دوران جنگ کے فیصلے اور اس کے نتائج کا دفاع بھی کیا۔ ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایران کے میزائل پروگرام اور اس کی فوجی صلاحیتوں کو امریکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اپنی انتظامیہ کے اقدامات کو درست ثابت کرنا چاہتے ہیں۔امریکی صدر کے اس مؤقف پر خطے میں جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے ممکنہ اثرات کے تناظر میں توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے نتائج نہ صرف دونوں ممالک بلکہ عالمی سلامتی اور معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے پر ٹرمپ کا مؤقف
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے معاشی اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اس سے کہیں زیادہ اضافہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ممکنہ معاشی اثرات کے لیے پہلے ہی تیار تھے اور انہیں اندازہ تھا کہ فوجی کارروائی کے نتیجے میں توانائی کی عالمی منڈیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس خطے میں تیل کی پیداوار اور ترسیل میں رکاوٹوں کے خدشات قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ایندھن، ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی لاگت پر بھی پڑ سکتا ہے۔تاہم، ٹرمپ نے اپنے خطاب میں قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے حوالے سے کوئی حتمی عددی تخمینہ فراہم نہیں کیا، بلکہ صرف یہ کہا کہ وہ اس صورتحال کے لیے تیار تھے۔
جنگ بندی پر بھی تحفظات کا اظہار
امریکی صدر نے جنگ بندی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ انتظام کبھی زیادہ پسند نہیں آیا۔ ان کے مطابق امریکا نے جنگ بندی کے ذریعے اچھا بننے کی کوشش کی، لیکن ان کے خیال میں یہ کوشش وقت ضائع کرنے کے مترادف ثابت ہوئی۔ٹرمپ کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جنگ بندی کے نتائج سے مطمئن نہیں تھے اور ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے زیادہ سخت مؤقف رکھتے ہیں۔ تاہم، ان کے خطاب میں جنگ بندی کے مستقبل یا کسی متبادل انتظام کے بارے میں تفصیلی لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔
ایران امریکا کشیدگی اور عالمی سلامتی
ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی، میزائل پروگرام اور جنگ بندی کے معاملات عالمی توجہ کا مرکز ہیں۔ایران کے میزائل پروگرام سے متعلق امریکی خدشات اور فوجی کارروائی کے جواز پر دونوں ممالک کے مؤقف میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں میزائلوں کی صلاحیت، فوجی کارروائیوں کے نتائج اور جنگ بندی کے امکانات سے متعلق دعووں کا جائزہ مستند شواہد اور آزادانہ تصدیق کی بنیاد پر لینا اہم ہے۔