امریکا کے نئے حملے، ایرانی ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکا کے نئے حملے، ایرانی ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے 13 جولائی کو ایران کے مختلف فوجی اہداف کے خلاف ایک نئی کارروائی مکمل کی، جس میں متعدد ساحلی اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

سینٹکام کے جاری کردہ بیان کے مطابق تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہنے والی یہ فوجی کارروائی امریکی مشرقی وقت کے مطابق رات 10:15 بجے اختتام پذیر ہوئی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے بوشہر، چاہ بہار، جاسک، کنارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس کے علاقوں میں واقع فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔امریکی فوج کے مطابق کارروائی میں جدید اور انتہائی درست ہدف کو نشانہ بنانے والے ہتھیار استعمال کیے گئے، جن کے ذریعے ایرانی ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات، اور بحری فوجی صلاحیتوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو محدود کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور عالمی بحری تجارت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔امریکی فوج نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں، جو خطے میں پیدا ہونے والی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور چوکس ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیج میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور تیل کی عالمی منڈی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔امریکی بیان کے بعد ایران کی جانب سے فوری طور پر اس کارروائی سے متعلق کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر برقرار ہے۔