محمد قیصر چوہان
امریکا نے اپنے جدید ترین بمبار طیاروں کے ساتھ ایران کی تین جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان کو نشانہ بناکر ثابت کردیا ہے کہ امریکا دہشت گردی کا عالمی چمپئن ہے اور اسرائیل ایک ناجائز اور دہشت گرد ریاست ہے جس کا وہ دفاع کر رہا ہے۔ بلاشبہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی فضائی حملہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ یہ اقدام کسی مو ¿ثر بین الاقوامی استثنیٰ کے بغیر کسی طاقت کی نمایندگی کرتا ہے۔اس طرح کے حملے سے اقوام متحدہ کی اساس اور بین الاقوامی قانونی ڈھانچے کی حرمت متاثر ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے کسی بھی ریاست کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ بغیر مجوزہ عمل کے کسی دوسری ریاست کی تنصیبات کو نشانہ بنائے۔اگرچہ امریکا ایک عالمی طاقت اور نیٹو کا اہم رکن ہے، لیکن اس کا یہ قدم اقوام متحدہ اور عالمی معاشرے میں رد عمل کو اشتعال انگیز بنائے گا۔ عالمی سیاسی منظر نامہ میں بھی اس اقدام کے برے اثرات مرتب ہوں گے۔ چین اور روس جیسی سپر پاورز اس اقدام کو براہِ راست مخالفت میں بیان کریں گی۔چین کے پاس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاورز موجود ہے نتیجتاً بین الاقوامی طاقتوں کے بیچ ٹکراو ¿ کا ماحول مزید کشیدہ ہو جائے گا۔اس سے ایک نئی سرد جنگ کا بازار گرم ہو سکتا ہے، جس میں عالمی تزویراتی پالیسی، توانائی کے ذرایع اور معیشتیں زبردست دباو ¿ کا شکار ہو جائیں گی۔علاقائی سطح پر ایران پر حملہ نئے مسائل جنم دے سکتا ہے۔ ایران اس حملے کا جواب زیادہ تر بیلسٹک میزائلز، فضائی اڈوں پر حملے، یا مشاورتی گروپوں کے ذریعے حملے کے طور پر دے سکتا ہے، نتیجتاً یمن، لبنان، شام اور عراق میں استحکام بری طرح متاثر ہوگا۔ لڑائی کی شدت میں اضافہ خطے میں توانائی کی فراہمی اور بحیرہ عرب کے ذریعے سے عالمی تجارت پر منفی اثرات ڈالے گا۔بحیرہ احمر میں حالیہ برسوں میں کئی تیل بردار جہاز اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے، جس سے توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور عالمی معیشت بحران میں جا سکتی ہے۔ بحیرہ احمر، خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں کشیدگی عالمی تجارت پر ایک بھاری قیمت لا سکتی ہے۔ اسرائیل اور امریکا کے سخت گیر حکمرانوںکے نقطہ نظر سے ایران کی تنصیبات پر حملہ ایک وقتی کامیابی ہو سکتی ہے، لیکن اس کے نتائج خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں، ایران اگر جوابی کارروائی میں اسرائیل کے شمالی علاقوں پر بیلسٹک میزائل حملے کرے، توشمالی اسرائیل میں انسانی ہلاکتوں،بنیادی ڈھانچے کی تباہی میں اضافہ ہوگا۔شمالی اسرائیل کے بڑے شہروں میں معیشت متاثر ہو سکتی ہے، اقتصادی پہلو سے دیکھیں تو اس کے نتیجے میں تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا قوی امکان ہے۔ تیل پر مبنی معیشت رکھنے والے خطوں میں یہ صورتحال کساد بازاری کا سبب بن سکتی ہے۔ یورپی یونین اور جاپان جیسی تیل درآمد کرنے والی ریاستیں توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہوں گی اور ان کی معیشتوں میں سست روی آسکتی ہے۔ یہ صورت حال کرنسی مارکیٹ کے زوال، درآمدی قیمتوں میں اضافے اور انفلیشن کے دباو ¿ بشمول غذائی اور توانائی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنے گی۔ مشرق وسطی ہی نہیںبلکہ جنوبی ایشیا و وسط ایشیا میں مہنگائی مزید بڑھے گی، اقتصادی استحکام متاثر ہوتا چلا جائے گا اور عوامی سطح پر اندرونی عدم تحفظ پیدا ہوگا۔ ایک انسانی بحران کے طور پر، جنگ کے بڑھنے سے مہاجرین یا اندرونی بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔ لبنان، عراق و شام میں حالیہ مہاجر بحرانوں سے سبق سیکھتے ہوئے، مستقبل میں بڑے پیمانے پر انسانی نقل مکانی خطے پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ مہاجرین کی فلاح و بہبود، خوراک، رہائش، صحت، تعلیم اور ملازمت کے مسائل بڑی سماجی، اقتصادی اور سیاسی مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔ خطے میں سیاسی و معاشی استحکام کمزور ہو کر دہشت گردی اور شدت پسندی کو فروغ دینے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
اگر ایران حملے کا جواب مشاورتی یا پراکسی گروپوں کے ذریعے دے، تو سعودی عرب اور مصر ایندھن نقل و حمل کی شِپس اور مشینی ڈھانچہ نشانہ بن سکتے ہیں۔ یمن میں جہاز رانی کو متاثر کرنے سے، عالمی تجارت متاثر ہو گی، اسی طرح بحیرہ احمرکے راستے میں جنگی کارروائیوں سے نقصان پہنچے گا۔معیشتیں شدید جھٹکے کھائیں گی اور گلوبل پالیسی محاذ پر تیل تاجروں کی حکمت عملی میں تبدیلیاں آئیں گی، میڈیا اور پروپیگنڈا میں جنگی ماحول شدت اختیارکرے گا۔ہر فریق خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرے گا۔ انسانی حقوق، معصوم شہریوں کی ہلاکت کا خود رپورٹ ہونا بھی عالمی برادری کی توجہ کا مرکز بنے گا۔ اس سے اقوام متحدہ، یورپی یونین، عرب لیگ اور اسلامی ممالک کے اندر ہنگامی اقدامات اور امدادی وابستگی کا دباو ¿ بڑھ سکتا ہے۔ دنیا کی سیاست میں نئے بلاکس تشکیل پا سکتے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر حملہ عالمی امن ہی نہیں خود امریکہ کے لیے بھی بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ٹرمپ کو یہ حقیقت بھی ملحوظ رکھنی چاہیے کہ جنگیں محض فوجی طاقت سے نہیں جیتی جاتیں، ایسا ہوتا تو امریکا کو ویت نام اور افغانستان میں بدترین شکست کا سامنا نہ کرنا پڑتالہٰذا عین ممکن ہے کہ ایران کیخلاف ان کی مہم جوئی امریکا کیلئے ایک اور رسوائی کا سبب بن جائے۔خطے کی موجودہ صورتحال کے مدد نظر رکھے ہوئے امریکا ، چین، روس، یورپی یونین، اور ایران کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات سے دنیا کوتیسر ی عالمی جنگ سے بچایا جا سکتا ہے۔ورنہ تیسری عالمی جنگ تو نوشتہ دیوار ہے۔