حافظ عبدالغفار روپڑی
اس سال پنجاب کے نو تعلیمی بورڈز میں تقریباََ 13 لاکھ 95 ہزار 575 طلبہ نے نویں جماعت کا امتحان دیا، مگر صرف 6 لاکھ 41 ہزار 662 طلبہ کامیاب ہو سکے۔ مجموعی کامیابی کی شرح تقریباََ 45.98 فیصد رہی۔ گویا امتحان میں شریک ہونے والے ہر دو طلبہ میں سے تقریباََ ایک طالب علم مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچ سکا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صرف ایک امتحانی نتیجہ نہیں، بلکہ پنجاب کے تعلیمی نظام اور اس کے ساتھ ساتھ ہماری قوم کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بھی ہے۔اس لیے کہ نویں اور دسویں جماعت کی تعلیم محض دو جماعتوں کا مرحلہ ہی نہیں بلکہ ان کے مستقبل کی مضبوط بنیاد رکھنے کا ایک فیصلہ کن دور ہوتا ہے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب طالب علم میں مطالعے کی عادت، بنیادی علمی تصورات، تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، وقت کی پابندی اور مسلسل محنت کا شعور پختہ ہوتا ہے۔ جو طلبہ نویں اور دسویں جماعت میں سنجیدگی، نظم و ضبط اور بھرپور محنت کے ساتھ اپنی تعلیم پر توجہ دیتے ہیں، ان کے لیے اگلی جماعتوں، کالج اور اعلی تعلیم کے مراحل نسبتاََ آسان ہو جاتے ہیں، کیونکہ ان کے بنیادی تصورات مضبوط، مطالعے کا طریقہ واضح اور امتحانات کا سامنا کرنے کا اعتماد زیادہ ہوتا ہے۔ خصوصا سائنس، ریاضی، زبان اور دیگر بنیادی مضامین میں حاصل کیا گیا مضبوط فہم آگے کی تعلیم میں نئی اور پیچیدہ معلومات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے برعکس جو طلبہ اس اہم مرحلے میں غفلت، غیر سنجیدگی یا محنت سے گریز کرتے ہیں، وہ وقتی طور پر تو اگلی جماعت میں پہنچ سکتے ہیں، مگر کمزور بنیاد ان کے ساتھ آگے بھی سفر کرتی رہتی ہے۔ بنیادی تصورات میں خلا، مطالعے سے بے رغبتی، کمزور تحریری و تجزیاتی صلاحیت اور امتحانی دبا ئو کا سامنا کرنے میں دشواری بعد کی تعلیم کو مشکل بنا دیتی ہے۔ یوں نویں اور دسویں کی محنت صرف اچھے نمبروں کے حصول کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ مستقبل کی علمی کامیابی، خود اعتمادی اور شخصیت سازی میں سرمایہ کاری ہے۔ جبکہ ہمارے ملک میں سرکاری سطح پر تعلیم کا معیار دن بہ دن زوال کا شکار ہے۔ جیسا کہ نویں جماعت کے حالیہ نتائج ہیں۔
پنجاب کے تمام بورڈ کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو خاصا فرق سامنے آتا ہے۔ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق ملتان بورڈ نے تقریباََ 52.11 فیصد کامیابی کے ساتھ سب سے بہتر کارکردگی دکھائی، جبکہ فیصل آباد بورڈ تقریباََ51.21 فیصد اور ڈیرہ غازی خان بورڈ 48.18 فیصد کے ساتھ اس کے بعد رہے۔ دوسری طرف راولپنڈی بورڈ کی کامیابی کی شرح تقریباََ37.56 فیصد رہی جبکہ بہاولپور بورڈ تقریباََ 38.46 ََفیصد پر رہا ہے۔سب سے حیرت ناک بات جو کہ قابل شرم بھی ہے کہ لاہور بورڈ جو پنجاب کا سب سے بڑا تعلیمی بورڈ ہے نتائج کے اعتبار سے چوتھے نمبر پر ہے۔ یہ فرق بذات خود ایک اہم تحقیقی سوال ہے کہ ایک ہی صوبے میں ، تقریباََ ایک ہی نصاب اور ایک ہی امتحانی نظام میں مختلف بورڈز کے نتائج میں اتنا فرق کیوں ہے؟
اسکول کی عمارت، فرنیچر اور کتابیں ضروری ہیں، لیکن اصل کامیابی ایک قابل، محنتی اور جواب دہ استاد سے شروع ہوتی ہے۔استاد کا فرض ہے کہ وہ طلبہ میں یہ شعور پیدا کرے کہ کامیابی صرف رٹے سے نہیں سوجھ بوجھ سے حاصل ہوتی ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف کتاب کے صفحات یاد کرنا نہیں بلکہ طالب علم میں سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے، مسئلہ حل کرنے اور عملی زندگی میں علم استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔
نویں جماعت کے نتائج میں کامیاب ہونے والے تمام طلبہ کو ہم دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ ان کے والدین اور اساتذہ بھی خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ لیکن جو بچے کامیاب نہیں ہو سکے، انہیں ناکام کہہ کر چھوڑ دینا مسئلے کا حل نہیں۔ آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمارا مقصد صرف زیادہ نمبر، زیادہ پوزیشنیں اور خوبصورت نتیجہ ہے یا ایسا تعلیمی نظام بنانا ہے جو ہمارے بچوں کو علم، کردار، اعتماد، تخلیقی صلاحیت اور مستقبل کی حقیقی ضروریات کے لیے تیار کرے۔
یہاں ہم دینی مدارس کا سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ مختصراََ موازنہ کرنا چاہئیں گے۔ یہ بات معلوم ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں پر حکومت ہر سال اربوں روپے خرچ کرتی ہے لیکن ان کا جو حاصل وصول ہے وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ تعلیمی نتائج انتہائی ناقص اور بچوں کی تربیت ندارد۔ اس کے برعکس دینی مدارس محدود وسائل میں کام کرتے ہیں۔ جہاں نہ بڑے سرکاری بجٹ ، نہ جدید ترین انفراسٹرکچر، نہ بھاری بھرکم انتظامی مشینری اور نہ ہی سرکاری خزانے سے ہر سال اربوں روپے کی براہِ راست مالی معاونت۔ اس کے باوجود ان مدارس
کے طلبہ نہ صرف امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرتے بلکہ اپنے دین،کے معاشرے اور ذمہ داریوں سے بھی آگاہ ہوتے ہیں۔ دینی مدارس میں طالب علم کو قرآن و حدیث، فقہ، عربی اور اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط، وقت کی پابندی، بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے شفقت، خدمتِ خلق اور اخلاق و کردار کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دینی مدارس سے نکلنے والے طلبہ کی ایک بڑی تعداد مساجد، مدارس، تعلیمی اداروں، دعوتی مراکز، رفاہی سرگرمیوں اور معاشرے کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دیتی ہے۔ وہ اپنی استطاعت کے مطابق معاشرے کے لیے مفید کردار ادا کرتے ہیں۔
ایک طرف حکومت سرکاری تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے ہر سال بھاری رقوم خرچ کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف دینی مدارس کو مختلف انتظامی اور قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ دینی مدارس کے تعلیمی بورڈز اور ان کے امتحانی و تعلیمی معاملات کے حوالے سے بھی وقتاََ فوقتاََ مشکلات سامنے آتی رہی ہیں۔ ریاست کا کام یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جو ادارہ اس کے اپنے نظام سے باہر کام کر رہا ہے، اسے کمزور کرنے کی کوشش کرے بلکہ ریاست کا فرض یہ ہے کہ ہر اس ادارے کی حوصلہ افزائی کرے جو نئی نسل کو علم، اخلاق، کردار اور ذمہ داری کا شعور دے رہا ہو۔ اگر کسی مدرسے کے نصاب، امتحانی معیار یا انتظامی نظام میں بہتری کی ضرورت ہے تو اصلاح کا راستہ مکالمہ، تعاون، تربیت اور باقاعدہ نگرانی سے نکالا جاسکتا ہے۔ محض پابندیوں اور رکاوٹوں سے نہ تعلیم بہتر ہوگی اور نہ ہی معاشرہ۔
دینی مدارس کے بارے میں یہ تاثر بھی درست نہیں کہ وہ صرف مذہبی تعلیم تک محدود ہیں اور معاشرے میں ان کا کردار صرف مسجد و مدرسے تک ہے۔ مدارس نے صدیوں سے علم کے فروغ، دینی شعور کی بیداری اور اخلاقی تربیت میں کردار ادا کیا ہے۔ آج بھی ان اداروں میں ایسے طلبہ تیار ہو رہے ہیں جو قرآن و حدیث کے علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں مہارت حاصل کرکے ملک کے مختلف علاقوں میں دینی رہنمائی، تدریس، خطابت اور دعوتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
لہذا ہم ارباب اقتدار سے کہنا چاہیں گے کہ سرکاری اسکولوں اور دینی مدارس کو ایک دوسرے کا حریف بنانے کے بجائے ان کے مثبت تجربات سے سیکھا جائے۔ سرکاری تعلیمی نظام دینی مدارس کی کم وسائل میں نظم و ضبط، طلبہ کی تربیت اور تعلیمی وابستگی سے سبق سیکھ سکتا ہے، جبکہ مدارس بھی جدید تعلیمی تقاضوں، سائنسی علوم، ٹیکنالوجی، تحقیق اور عصری مہارتوں کے حوالے سے اپنے نظام کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اگر دینی مدارس محدود وسائل میں اپنے ادارے چلا سکتے ہیں، ہزاروں اساتذہ اور لاکھوں طلبہ کا نظام سنبھال سکتے ہیں، تعلیم کے ساتھ تربیت کو بھی اہمیت دے سکتے ہیں اور معاشرے کے لیے خدمت انجام دینے والے افراد تیار کرسکتے ہیں تو سرکاری تعلیمی اداروں کو بھی ان کے تجربات کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ یہ کسی ایک نظام کی فتح یا دوسرے کی شکست کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔