سید منیر حسین گیلانی
اس میں شک نہیں کہ اس وقت دنیا کی بڑی سامراجی قوت امریکہ ہے ،جس نے سامراجیت کو طاقت بنا کر دنیا کے مختلف ممالک میں جنگیں لڑیں اور الحمدللہ ناکامی کا منہ دیکھا۔ شکست خوردہ ہونے اور ہزاروں فوجیوں کو مروانے کے باوجود امریکہ ہر ملک سے فرار ہوا۔ خاص طور پر اسے جو عبرتناک شکست ویتنام میںہوئی ، وہ سبق سیکھنے کے لئے کافی تھی لیکن زخموں کو چاٹنے کے باوجود امریکہ نے افغانستان میں بھی جنگ کا آغاز کر دیا۔ کافی عرصہ افغانستان کو فتح کرنے کے لیے افغان قوم پر ایک طویل جنگ مسلط کئے رکھی لیکن وہاں سے بھی ناکام اورنامرادہو کر اسے نکلنا پڑا۔ افغانستان پر قبضے کے محرکات جو بھی تھے ، ان پر بات نہیں کرنا چاہتا۔لیکن افغانستان کی زیر زمین معدنیات پر قبضہ کر کے اپنی طاقت اور وسائل کو وسعت دینے کی خواہش نے لگاتار افغانستان میں جنگ جاری رکھی اور آخر میں رسوائی اور ناکامی کو سمیٹتے ہوئے امریکہ کو افغانستان سے بھاگنا پڑا۔اسی طرح عراق کے اندر امریکی تسلط کو قائم کرنے کے لئے عراق کے پاس مہلک ہتھیار وں Weapons of Mass Destruction کی موجود گی کا بہانہ بنا کر قبضہ کیا جبکہ اس کے پیچھے محرکات عراق کے تیل پر قبضہ کرنا تھا ،جبکہ نعرہ ملکی نظام کو جمہوریت میں تبدیل کرنا وہ نعرہ تھا،جس کا خواب آج تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ ہاں عراق کو صدیوں پیچھے دھکیل دیا گیا۔
اس کے بعد لیبیا میں کرنل قذافی کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کے لیے حملہ کیا گیا اور وہ ملک جو دن بدن ترقی کررہا تھا اورعوام کی فلاح و بہبود کے اقدامات کر رہا تھا ، اس کی ترقی کا سفر رک گیا۔ امریکہ لیبیا کے تیل کی دولت سے اپنے خزانے بھرتا رہا۔پھر حالیہ دور میں روس اور یوکرائن کی جنگ شروع کروائی گئی۔ یوکرائن کو یورپ اور امریکہ سے اسلحے کی تر سیل نے اس جنگ کو ابھی تک جاری رکھا ہوا ہے۔ وینزویلا کے صدراور اس کی اہلیہ کی گرفتاری بھی اسی سامراجی سوچ کا نتیجہ تھا۔ اسی دوران سامراجی شیطانی قوت امریکہ نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے نام پر خلیج کے اندر 13 جون 2025ء کو اپنی ناجائز اولاد اسرائیل کے ذریعے بارہ روزہ جنگ شروع کروائی ،سیز فائر ہو۔ پھر امریکی پابندیوں کی وجہ سے پیداہونے والی بدحال معیشت کے نام پر تاجروں کے احتجاج کو حکومت کے خلاف استعمال کیا گیا۔ تاکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کا ایجنڈا پورا کرکے اپنے کسی پٹھو کو برسراقتدار لاکر یہاں کے تیل کو اپنے خزانے بھرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔28 فروری2026 ء کوامریکہ اور اسرائیل نے مل کر پھر حملہ کیاجس میں فوجی قیادت ،سیاستدان اور سائنسدان شہید کئے گئے۔اسی حملے میںرہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو خاندان سمیت شہید کر دیا گیا۔رہبر کی شہادت نے ایرانی قوم کے دلوں میں امریکہ
اور اسرائیل کے خلاف نفرت کا ایسا زخم لگایا کہ جس کے اثرات سے ایرانی قوم متحد ہو گئی اور پہلے سے موجودختم نہ ہونے والی نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا ثبوت آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کے موقع پر ایرانی قوم ،مسلمان لیڈر زاور ان سے محبت کرنے والے کروڑ ہا انسانوں نے دیا۔شہادت کے 131 دنوں کے بعد شہید رہبر کو امام رضا علیہ السلام کے قدموں میں دفن کیا گیا۔جبکہ اس سے پہلے شہیدکا جسد خاکی مصلیٰ امام خمینی تہران میں زیارت کے لیے رکھا گیا، یہا ں پہلی نماز جنازہ کے بعد انہیں علمی مرکز قم ،امام علی علیہ السلام کے روضہ نجف اشرف، امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علمدار علیہ السلام کے روضوں پر کربلا معلی میں حاضری کے لئے لے جایا گیا اور یہاں نماز جنازہ بھی پڑھائی گئیں۔ مثالی جنازہ جس میں کروڑوں انسانوں نے رہبر شہیدکو آنسووں اور سسکیوں کے ساتھ الوداع کہا اس میں پاکستانی عوام کی نمائندگی وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر ،بلاول بھٹو زرداری،اسحاق ڈار،محسن نقوی، عطا ء تارڑ،مراد علی شاہ نے شرکت کی،جبکہ پاکستان سے قائد ملت جعفریہ علامہ سیدساجد علی نقوی، اپوزیشن لیڈر سینٹ علامہ ناصر راجہ ناصر عباس جعفری،علامہ شبیر حسن میثمی ،علامہ جواد نقوی، اور دیگر علماء کاوفد اور لاکھوںپاکستانی عوام جنازہ میں شریک تھے، جنہوں نے عقیدت کا اظہار کیا اور رہبر کو اخری الوداع کہا۔ دنیا بھر سے سعودی عرب،یمن، بھارت سے سرکاری وفد کے علاوہ مسلم ،سکھ اور ہندونمائندے،افغانستان قطر ،ترکی اور دیگر کئی وفو د بھی اس میں شریک ہوئے۔میں سمجھتا ہوں کہ سامراجی قوت امریکہ خود ویتنام ،افغانستان ،عراق اور لیبیا سے شکست کھا کر آج کے دور میں یزیدیت کا نشان ماتھے پر لگا کر موجو دہے،اسے اب ہوش آنی چاہیے کہ اس قسم کے اقدامات سے امریکہ سوائے بدنامی اورناکامی کی کچھ حاصل نہیں کر سکتا۔ سامراجی فلسفہ یہ رہا ہے کہ دوسرے کے وسائل پر قبضہ کیا جائے ، کسی زمانے میں فرانس اور برطانیہ بہت بڑے سامراج تھے۔برطانوی سامراج نے ہمارے خطے برصغیر کی دولت کو لوٹنے کے لیے قبضہ کیا۔مگر آخر اسے جانا پڑا۔امریکہ نے دفاع کے نام پرسعودی عرب پر ابھی تک اپنا قبضہ قائم کر رکھا ہے،تاکہ اپنا اسلحہ بیچ سکے۔ یہی ہوتا ہے کہ سامراج کمزور قوموں کا سہارا بننے کا ڈرامہ کرتا ہے،مگر طاقتور قومیں ڈٹ جاتی ہیں جیسے کہ ایران ڈٹا ہواہے ،کیونکہ انہیں کربلا اور کربلا والوں سے عشق ہے۔ایسے عاشق جان کو بچانے کے لیے زرا برابر بھی فکر مند نہیں ہوتے۔اب ایرانی قوم نے شہید رہبر کے خون کا بدلہ لینے کا عزم کیا۔ نئے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی اس کااعادہ کیا ہے۔جبکہ پارلیمنٹ میں بھی اجتماعی طور پر قوم کی طرف سے رہبر کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا گیا۔ اور یکسو اور یک زبان ہو کرانتقام کے نعرے بلند کئے۔میں سمجھتا ہوں کہ امریکی سامراج ایران میں بری طرح شکست کھا چکا ہے اور سب سے بڑی شکست یہ ہے کہ امریکہ ایران کے اندر داخل نہیں ہو سکا کیونکہ اندر سے غدار میسر نہیں ہوئے۔ ایران نے اپنی حکمت عملی سائنسدانوں کی محنت اور قوم کی اتحاد سے امریکی سامراج کو بری طرح ناکام کیا ہے۔۔۔۔END۔۔۔۔