ایران کے بعد اومان بھی امریکی نشانہ؟

 تصور حسین شہزاد
 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کیساتھ جنگ بندی کی ساٹھ روزہ میعاد ختم ہونے پر پالیسی بیان جاری کردیا۔ فاکس نیوز کے صحافی ٹری ینگسٹ کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر عمان نے ایران کیساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے میں امریکی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی تو امریکا عمان پر شدید بمباری کرسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا اگرعمان راستے میں آیا تو امریکا اسے بری طرح بمباری کا نشانہ بنائے گا۔ امریکی صدر نے ایرا ن سے ایک بار پھر ہتھیار ڈال کر امن کی علامت سفید جھنڈا لہرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ایرانی قیادت اچھے پوکر کھلاڑی ہیں، تاہم ان کے بقول ایران کو شدید مشکلا ت کا سامنا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کے مفاہمتی یادداشت کی مدت ختم ہونے پر صدر ٹرمپ نے کہا ایران کے معاملے میں کوئی مقررہ ٹائم ٹیبل نہیں اور وہ جلد بازی میں بھی نہیں ہیں، البتہ بنیادی ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ایران جنگ میں پیٹریاٹ میزائل اور ٹوما ہاکس جیسے جدید ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ ختم ہوجانے کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا امریکا کے صرف مونگ پھلی کے دانے جتنا اسلحہ استعمال ہوا ہے۔ قبل ازیں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ امریکا کی پہلی ترجیح امریکا میں تیل اور گیس کی قیمتوں کو کم رکھنا اور دوسری ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا ایران کیساتھ جاری جنگ کے دوران اپنے دونوں اہداف حاصل کر رہے ہیں۔ ادھر العربیہ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق ہوگیا ہے، العریبہ کے مطابق جنگ بندی کی مدت گزشتہ روز ختم ہوگئی۔ العربیہ کے مطابق جنگ بندی کے دوران بھی امریکا اور ایران کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں، جبکہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے۔ رپورٹ کے مطابق چند روز قبل ترک میڈیا نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران نے 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کرلیا ہے۔ دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سیاسی نائب بریگیڈیئر جنرل یداللہ جوانی نے کہا جنگ کا خاتمہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق ہونا چاہیے۔ ایرانی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے یداللہ جوانی نے کہا اگر امریکا مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا تو ہی آبنائے ہرمز کھولی جائے گی۔ انہوں نے کہا آبنائے ہرمز کے انتظامات کبھی بھی جنگ سے پہلے کی صورتِحال پر واپس نہیں جائیں گے۔ امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادی آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران سے لینے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ یداللہ جوانی کے مطابق آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اورعمان کے درمیان بات چیت جنگ کے حتمی خاتمے اور اس کے بعد کی صورتِحال کیلئے ہے۔ اب امریکہ کو عمان کی جانب سے ناکامی اور ا?بنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کے پاس ہونے سے نئی پریشانی لاحق ہو گئی ہے۔ امریکہ چاہتا تھاکہ اومان ایران کیساتھ کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں کرے گا، جبکہ اومان اور ایران کے اس حوالے سے مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس معاملے میں بری طرح ناکام ہونے پر امریکہ نے اومان 
کوبھی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اپنے ایک بیان میں کہا ٹرمپ آبنائے ہرمز پر نہ ختم ہونیوالے بے بنیاد دعو وں کے بجائے اپنی سلامتی پر توجہ دیں، تاکہ انہیں فرار کیلئے کسی ٹرک میں نہ چ?ھپنا پڑے۔ انہوں نے مزید کہا گذشتہ ماہ ترکیہ سے برطانیہ جاتے ہوئے سکیورٹی خطرات پر ٹرمپ کو کیٹرنگ ٹرک کے ذریعہ جہاز پر لے جایا گیا تھا۔ دریں اثناء￿  ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا پاکستان اور قطر موجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ایران، پاکستان 
اور قطر کیساتھ رابطہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ مفاہمتی یادداشت میں نام نہاد 60 روزہ ڈیڈ لائن کی کوئی شرط شامل نہیں۔ ہفتہ وار نیوز کانفرنس میں انہوں نے کہا ایران ایسا ملک نہیں جو ڈیڈلائن یا دباؤ کے تحت فیصلے کرے، ایم او یو کی مدت صرف پابندیاں ختم کرنے اور جوہری مسئلے کے حل کیلئے تھیں۔ انہوں نے کہا امریکا کی ایم او یو کی خلاف ورزی کے باعث ابھی مذاکرات شروع نہیں ہوئے۔ امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے چند ہفتوں بعد ہی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا اومان کیساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔ اومان اور ایران بحری آمدورفت کے طریقہ کا ر پر کام کر رہے ہیں۔ اسماعیل بقائی نے کہا ایران کی ثابت قدمی نے دشمن کے اندازوں کو غلط ثا بت کر دیا۔ اسماعیل بقائی نے وضاحت کی کہ 18 جون کی مفاہمتی یادداشت میں دو اہم معاملات پر مذاکرات کیلئے تقریباً 60 دن کا عرصہ زیر غور آیا تھا۔ ان میں ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور جوہری معاملہ شامل تھا۔ ایرانی ترجمان کے مطابق اگر اس مدت کے دوران کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پاتا تو مذاکراتی مدت میں توسیع بھی ممکن تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا امریکا نے یادداشت پر دستخط ہونے کے چند ہی ہفتوں بعد اس کی سنگین اور وسیع پیمانے پر خلاف ورزی کی، جس کے باعث مذاکرات شروع ہی نہیں ہو سکے۔ اسماعیل بقائی نے کہا جب مذاکرات کا عمل ہی آگے نہیں بڑھا تو 60 روزہ مدت کی بحث بھی غیر متعلق ہوگئی۔ ان کے مطابق ایران پر کسی مخصوص مدت میں فیصلہ کرنے کیلئے دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا۔ دریں اثناء￿  امریکہ نے ایران کیساتھ جنگ کے دوران ہتھیاروں کی کمی کے باعث دفاعی کمپنی کیساتھ میزائل خریدنے کا معاہدہ کرلیا ہے۔ غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ٹوماہاک میزائلوں کی تیاری اور فراہمی کیلئے دفاعی کمپنی کیساتھ 22.9 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق معاہدے کا مقصد امریکی فوج کو ٹوماہاک میزائلوں کی فراہمی میں تیزی لانا ہے۔ امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکرٹری نے کہا معاہدے کے تحت فوجیوں کو ٹوماہاک میزائل فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج کو جارحیت روکنے اور ملک کے دفاع کیلئے مطلوبہ ہتھیار فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق ٹوماہاک میزائل زیادہ تر آبدوزوں اور جنگی بحری جہازوں سے داغے جاتے ہیں اور یہ تقریبا 1600 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ دوسری طرف جنوبی بحیرہ چین میں موجود امریکی بحری بیڑہ چار روز سے بجلی سے محروم ہے، جس کے باعث وہاں ائیر کنڈیشنز نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق صرف یہی نہیں بلکہ جہاز میں موجود عملے کیلئے ٹوائلٹس اور کچن بھی ناقابل استعمال ہوکر رہ گئے ہیں۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس خرابی کی وجہ انجینئرنگ مسائل بتائے گئے ہیں۔ شدید گرمی میں پیش آئی اس خرابی نے 
امریکی بحریہ پر بڑھتے ہوئے آپریشنل دباؤ کے حوالے سے سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔ جبکہ بحری جہاز کے ملاحوں کے لواحقین نے بھی ٹرمپ کی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔