طوفانی بارشیں‘ راوی کا پانی سندر میں داخل
روہی نالہ کا پانی ڈیرہ گھنگاں والا کی رہائشی آبادی میں داخل،پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے لگی، مکینوں کی نقل مکانی ، انتظامیہ پر بروقت اطلاع نہ دینے کا الزام ،علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا،وزیر اعلیٰ کا کرنٹ سے ہلاکتوں کا نوٹس
بارشوں سے تباہی، 43 جاں بحق، 177 زخمی، کئی گھر منہدم، آسمانی بجلی گرنے سے 2، عمارات گرنے سے 15، کرنٹ لگنے سے 3 اور پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے:پی ڈی ایم اے
(انٹرو1)
لاہور (رپورٹ:شہزاد راجپوت) دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کے باعث سندر کے نواحی علاقے ڈیرہ گھنگاں والا میں سیلابی پانی داخل ہونا شروع ہوگیا، جس کے بعد مقامی آبادی نے اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی شروع کر دی۔ذرائع کے مطابق دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث روہی نالہ کا پانی دریا میں گزر نہ سکا، جس کے نتیجے میں نالے میں پانی کا دباؤ بڑھ گیا اور اس نے سیلابی شکل اختیار کر لی۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں روہی نالہ کا پانی ڈیرہ گھنگاں والا کی رہائشی آبادی تک پہنچ گیا اور متعدد گھروں کی بنیادوں کو چھونے لگا۔جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے گھروں سے باہر نکل کر صورتحال کا جائزہ لیا تو پانی تیزی سے آبادی میں داخل ہو رہا تھا۔ ان کے مطابق پانی گھروں کے قریب پہنچنے پر اہل خانہ کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔متاثرہ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ سیلاب کے حوالے سے نہ تو پیشگی اطلاع دی گئی اور نہ ہی کسی قسم کی احتیاطی یا حفاظتی تدابیر اختیار کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت آگاہ کیا جاتا تو وہ پہلے ہی اپنے اہل خانہ اور قیمتی سامان کو محفوظ مقام پر منتقل کر سکتے تھے۔علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ادارے اور متعلقہ محکمے فوری طور پر متاثرہ علاقے میں پہنچ کر امدادی سرگرمیاں شروع کریں، آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں اور مزید نقصان سے بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔آخری اطلاعات تک علاقے میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی تھی جبکہ مقامی افراد میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
(انٹرو2)
لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ، رودکوہی اور سیلاب سے نمٹنے کیلئے تمام انسانی اور مکینکل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کرنٹ لگنے سے ہونے والی ہلاکتوں پر لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کارکمپنیوں کو نوٹس لینے کی ہدایت کی اور کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لئے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے اور ہدایات کیں۔جب کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات بارے رپورٹ جاری کر دی گئی، حادثات میں اب تک مجموعی طور پر 43 افراد جاں بحق ہوچکے، جبکہ کئی گھر منہدم ہوگئے۔ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق رواں سال مون سون بارشوں کے باعث 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، سیلابی ریلے میں بہنے یا پھنسے ہونے سے متعلق کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔رواں سال مون سون کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے 2، عمارات گرنے سے 15، کرنٹ لگنے سے 3 اور پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، مون سون بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے جبکہ ایک مویشی ہلاک ہوا۔ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق بارشوں کے باعث اربن و فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔دوسری جانب خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں مکانات کی چھتیں و دیواریں گرنے اور سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے حادثات رونما ہوئے جس میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 23 زخمی ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 9 مرد، 10 بچے اور 3 خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، 5 خواتین، 7 بچے شامل ہیں۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں سے 37 گھر متاثر، 8 مکمل منہدم اور 29 کو جزوی نقصان پہنچا۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر میں پیش آئے، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، ٹانک، تورغر،کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان بھی متاثر ہوئے۔