لندن: عالمی منڈی میں سونے کی قیمت مسلسل دوسرے روز بھی دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ مہینوں میں شرح سود میں اضافے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,030.09 ڈالر فی اونس رہ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد تنزلی کے ساتھ 4,033.20 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سونا ہفتہ وار بنیاد پر معمولی اضافے کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم شرح سود میں ممکنہ اضافے کے خدشات کے باعث اس کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔ماہرین کے مطابق بلند شرح سود کی صورت میں سونے جیسی ایسی سرمایہ کاری، جس پر منافع یا سود حاصل نہیں ہوتا، سرمایہ کاروں کے لیے نسبتاً کم پرکشش ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی طلب اور قیمت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔
سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ اب آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس پر مرکوز ہے۔ مارکیٹ کی عمومی توقع ہے کہ اس اجلاس میں شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھا جائے گا، تاہم ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات اب بھی مضبوط تصور کیے جا رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی، امریکی معاشی اعداد و شمار اور افراطِ زر کی صورتحال آنے والے دنوں میں سونے کی عالمی قیمتوں کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔