عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری رہا اور مسلسل چوتھے کاروباری سیشن کے دوران قیمت سات ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق امریکی ڈالر کی کمزوری، امریکی ٹریژری بانڈز کی گرتی ہوئی پیداوار اور مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی پیش رفت کی امیدوں نے سونے کی قیمتوں کو سہارا دیا ہے۔بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد اضافے کے بعد 4 ہزار 265.22 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچر بھی 0.5 فیصد بڑھ کر 4 ہزار 324.60 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئے۔ بدھ کو بھی سونے کی قیمت میں فروری کے بعد سب سے بڑا یومیہ اضافہ دیکھا گیا تھا۔آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائیکامور کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی پیش رفت کی امیدوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث سونے کی طلب بہتر ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہا اور مرکزی بینکوں کو شرح سود بڑھانے کی ضرورت پیش نہ آئی تو سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر سونا اپنی 200 روزہ موونگ ایوریج سے اوپر مضبوطی برقرار رکھتا ہے تو مستقبل میں اس کی قیمت 5 ہزار ڈالر فی اونس تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان مجوزہ معاہدے پر پیش رفت کی اطلاعات نے بھی مارکیٹ کے اعتماد کو تقویت دی ہے۔
اس معاہدے کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی لانا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے متعلق مثبت توقعات کو بھی خطے کے استحکام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ادھر امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے ستمبر میں شرح سود بڑھانے کے امکانات بھی کم ہو گئے ہیں۔ تازہ اندازوں کے مطابق اس کا امکان 55 فیصد رہ گیا ہے، جو دو روز قبل 67 فیصد تھا۔ امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں کمی اور ڈالر انڈیکس کی کمزوری نے بھی سونے کی قیمتوں کو مزید سہارا دیا۔دوسری جانب دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 62.02 ڈالر فی اونس رہی، جبکہ پلاٹینم 1.2 فیصد اضافے کے بعد 1,755.18 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جو جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ پیلیڈیم کی قیمت بھی 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 1,374.33 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی، جس میں مسلسل تیسرے سیشن کے دوران اضافہ دیکھا گیا۔