قومی اسمبلی کا اجلاس: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش

قومی اسمبلی کا اجلاس: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش

قومی اسمبلی کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد پیش کردی گئی، جبکہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنتی جا رہی تھی۔

اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس کے آغاز پر وقفہ سوالات ملتوی کرنے کی تحریک پیش کی گئی، جس کی اپوزیشن نے مخالفت کی۔ تاہم تحریک کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔بعد ازاں صدر مملکت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے اعلان کی توثیق سے متعلق قرارداد طارق فضل چوہدری نے ایوان میں پیش کی، جس پر بحث شروع ہوگئی۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئینی تقاضا ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان 10 روز کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔ ان کے مطابق حکومت نے طویل غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا، کیونکہ اندرونی خلفشار، سرحد پار سے دراندازی اور صوبائی حکومت کے اقدامات قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے جا رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کو 12 اکتوبر 1999 کے واقعات سے تشبیہ دی گئی، تاہم خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر حکومت نے یہ اقدام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کے اجلاس میں اس معاملے پر اڑھائی گھنٹے تک تفصیلی بحث ہوئی۔

اعظم نذیر تارڑ کے مطابق 2026 میں دہشت گردی کے 3 ہزار 787 واقعات پیش آئے، جبکہ ماضی میں بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز اور پولیس نے قربانیاں دے کر کامیابیاں حاصل کیں، تاہم بعد ازاں حالات دوبارہ خراب ہوگئے۔وزیر قانون نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردی میں اضافے کے پیچھے ایک سیاسی جماعت کی دہشت گردوں کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی بھی ایک وجہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں حالات خراب ہونے کے باوجود وزیراعلیٰ نے شہدا کے جنازوں میں شرکت کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے ملک گیر دورے شروع کردیے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پر چڑھائی کے اعلان کے باوجود حکومت نے مذاکرات کو ترجیح دی۔ اسپیکر کے چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان دو روز تک مذاکرات ہوتے رہے اور رات گئے تک مسودے تیار کیے جاتے رہے۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں بنیادی معاملہ انسداد دہشت گردی کی پالیسی طے کرنا تھا، تاہم اپوزیشن کی جانب سے اپنے قائد کو جیل میں سہولیات فراہم کرنے کا معاملہ اٹھایا گیا۔

 انہوں نے کہا کہ جیل میں سہولیات کا تعین جیل قواعد کے تحت ہوتا ہے اور اس حوالے سے فیصلہ کرنے کا اختیار عدالت کے پاس ہے۔وزیر قانون نے ماضی کے سیاسی مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب پی ٹی آئی نے دو صوبائی اسمبلیاں تحلیل کیں تو بعد میں اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ ان کے مطابق اس وقت مذاکرات کے دوران ملک بھر میں بیک وقت انتخابات کرانے اور بجٹ کی منظوری کے بعد انتخابی عمل میں جانے پر اتفاق ہوا تھا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت شاہ محمود قریشی اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کر رہے تھے، تاہم بعد میں انہیں اپنے قائد کی جانب سے مذاکرات نہ کرنے کا پیغام ملا، جس کے بعد مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن رکن شفقت اعوان نے اعظم نذیر تارڑ کی تقریر میں مداخلت کی۔ اس موقع پر وزیر قانون نے طنزیہ جملے کہے، جس پر شفقت اعوان نے جواب دیا کہ وہ ان کی طرح فارم 47 کے ذریعے ایوان میں نہیں آئے۔دریں اثنا حمزہ شہباز شریف بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں پہنچ گئے، تاہم وزیراعظم شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔