سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے کرنل ریٹائرڈ اسحاق قاضی اور ڈاکٹر مشعال فاطمہ کے بیٹے کی نعشیں تین روز بعد مل گئیں
اسلام آباد کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں آنے والے سیلابی ریلے نے ایک اور گھر اجاڑ دیا۔ شدید بارش کے باعث گاڑی سمیت لاپتہ ہونے والے پاک فوج کے کرنل ریٹائرڈ اسحاق قاضی کی نعش تین روز بعد دریائے سواں سے برآمد کر لی گئی، جب کہ ان کی بیٹی کی تلاش اب بھی جاری ہے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق کرنل ریٹائرڈ اسحاق قاضی اپنی بیٹی کے ہمراہ گھر سے نکلے تھے کہ گاڑی راستے میں خراب ہوگئی، اسی دوران اچانک آنے والا پانی کا ریلا گاڑی کو بہا لے گیا۔ واقعے کے بعد دونوں باپ بیٹی لاپتہ ہو گئے تھے۔ریسکیو ٹیموں نے گزشتہ دو دن سے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے برساتی نالے میں سرچ آپریشن مکمل کرنے کے بعد دریائے سواں کے داخلی و خارجی راستوں پر تلاش کا دائرہ وسیع کیا۔ گزشتہ روز گاڑی کا بمپر اور سائیڈ مرر تو مل گئے، مگر اب جا کر کرنل (ر) اسحاق قاضی کی نعش دریا سے نکالی جا سکی ہے۔ ان کی بیٹی کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن بدستور جاری ہے۔
دوسری جانب، بابوسر ٹاپ کے قریب سیلاب میں جاں بحق ہونے والی خاتون ڈاکٹر مشعال فاطمہ کے 3 سالہ بیٹے عبد الہادی کی نعش بھی تین روز بعد مل گئی۔مقامی افراد نے ڈاسر کے مقام پر ننھے عبد الہادی کی لاش دیکھی اور فوری حکام کو اطلاع دی۔ گلگت بلتستان اسکاؤٹس نے نعش نالے سے نکال کر چلاس اسپتال منتقل کر دی۔یاد رہے کہ لودھراں سے تعلق رکھنے والی فیملی سیروتفریح کے لیے سکردو گئی تھی۔ واپسی پر بابوسر ٹاپ کے مقام پر ان کی گاڑی سیلابی ریلے کی زد میں آ گئی، جس میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ اور ان کے دیور فہد اسلام جاں بحق ہو گئے تھے، جب کہ ان کا تین سالہ بیٹا عبد الہادی لاپتہ ہو گیا تھا۔