بلوچستان کے ضلع پشین سے تعلق رکھنے والے پاک فوج کے بہادر افسر میجر محمد انور کاکڑ 19 جولائی 2025 کو کوئٹہ میں بھارت کی پشت پناہی سے کام کرنے والے دہشت گردوں کے حملے میں شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہو گئے۔
میجر انور کاکڑ شہید بلوچستان میں فتنتہ الہندوستان کے دہشت گرد گروہوں کے خلاف اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کی شجاعت کا نمایاں مظاہرہ پی سی ہوٹل گوادر پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے دوران ہوا، جہاں انہوں نے ایک آپریشن کی قیادت کی۔ اس جری کارروائی میں انہیں دو گولیاں لگیں، لیکن ان کا حوصلہ اور قیادت برقرار رہی۔میجر انور کاکڑ شہید بلوچستان میں ابلاغی جنگ (information warfare) کے میدان میں بھی صفِ اول کا کردار ادا کر رہے تھے اور دشمن کے پروپیگنڈے کے مقابل پاکستانی بیانیے کو مؤثر انداز میں اجاگر کر رہے تھے۔
شہید کے پسماندگان میں والدین، اہلیہ اور تین بیٹے شامل ہیں۔ انہوں نے دس سال سے زائد پاک فوج میں خدمات سرانجام دیں اور وطن کے دفاع کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت، جو روایتی جنگوں میں پاکستان سے ذلت آمیز شکست کھا چکا ہے، اب دہشت گرد نیٹ ورکس اور فنڈنگ کے ذریعے پاکستان کے اندر حملوں میں ملوث ہے۔ تاہم پاکستان کی افواج اور عوام دشمن کے ان ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔قوم میجر محمد انور کاکڑ شہید اور دیگر شہدائے وطن کو سلام عقیدت پیش کرتی ہے، جن کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کی ضمانت ہیں۔