غیرفعال کارکنوں کو عہدے د لائے گئے، یہ راجہ پرویز کی وجہ سے ہوا :ارشاد اللہ،انکوائری کرائی جائے :فاروق
لاہور (کرائم رپورٹر )پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کی تنظیم سازی پر پیپلزپارٹی میں شدید اختلافات سامنے آ گئے۔متعدد سابق عہدیداروں اور کارکنوں نے تنظیم سازی کے خلاف بلاول بھٹو کو خطوط ارسال کر دئیے،سابق جنرل سیکرٹری پیپلزپارٹی ضلع گوجرانوالہ چودھری ارشاد اللہ سندھو نے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کو اپنے خط میں لکھا کہ پیپلزپارٹی کو سنٹرل پنجاب میں ختم کر دیا گیا،پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کی تنظیموں میں ڈمی، ذاتی ملازم اور غیرفعال کارکنوں کو عہدے د لائے گئے، ارشاد اللہ سندھو نے مزید لکھا کہ سنٹرل پنجاب میں پیپلزپارٹی کو مکمل طور پر ختم کرنے اور متحرک اور فعال عہدیداروں کو مایوس کرکے پیپلزپارٹی سے دور کرنے کی بڑی سازش کی گئی ہے، ضلع منڈی بہائوالدین سے تعلق رکھنے والی متنازع شخصیت آصف بشیر بھاگٹ کو دوبارہ گوجرانوالہ ڈویڑن کا صدر بنا دیا گیا ہے یہ سب پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف اور جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضیٰ کی وجہ سے ہوا جس کا نہ کوئی تنظیمی اور نہ اخلاقی جواز بنتا ہے۔پیپلزپارٹی پی پی 50 ڈسکہ کیٹکٹ ہولڈر رانا فاروق اشرف نے اپنے خط میں لکھا کہ غلط تنظیم سازی پر پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنمائوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنا کر انکوائری کروائی جائے ،رانا فاروق اشرف نے مزید لکھا کہ اس غیر سنجیدہ اور خود ساختہ تنظیم سازی کے اثرات وقتی نہیں بلکہ طویل المدت ہوں گے۔ اس مایوسی کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ کارکن یا تو خاموش ہو رہا ہے یا سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر رہا ہے، جو کسی بھی جماعت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ڈپٹی سیکرٹری پیپلزپارٹی وسطی پنجاب احسن رضوی نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کی تنظیموں کی منظوری بلاول بھٹو نے خود دی ،جو عہدیدار کام نہیں کرتے تھے انہیں بدلا گیا ، پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کی تنظیموں میں 70 فیصد نئے چہرے ہیں۔