یہ ایسا سانحہ ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے،آتشزدگی سے تاجروں کے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا، حکومت ہر تاجر کو 5،5 لاکھ دے گی
عمارت کا ذوالفقار علی بھٹو یا آصف علی زرداری سے کوئی تعلق نہیں ‘نہ ہی عمارت 1983 یا 1984 میں قائم کی گئی تھی،سندھ اسمبلی میں اظہار خیال
کراچی( آن لائن )وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے گل پلازہ آتشزدگی کو 18ویں ترمیم سے جوڑنا سمجھ سے بالاتر ہے، گل پلازہ آتشزدگی سے تاجروں کے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا، صوبائی حکومت ہر تاجر کو 5،5 لاکھ روہے دے گی۔سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی عمارت کی لیز ختم ہونے سے متعلق دعوے غلط ہیں اور اس سانحے کو بلاوجہ سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ نے پورے ملک کو غمگین کر دیا ہے، اس المناک آگ میں کئی معصوم افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازہ کی عمارت کا ذوالفقار علی بھٹو یا آصف علی زرداری سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ عمارت 1983 یا 1984 میں قائم کی گئی تھی۔ ان کے مطابق گل پلازہ کی تعمیر اور ریگولرائزیشن مختلف ادوار میں ہوئی۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ گل پلازہ کی ابتدائی لیز 1884 میں 99 سال کے لیے دی گئی تھی جو 1983 میں مکمل ہوئی۔ بعد ازاں 1991 میں 18 سال کے لیے نئی لیز دی گئی جو 2001 میں ختم ہو گئی، جبکہ 2001 میں ایک بار پھر لیز میں 18 سال کی توسیع کی گئی۔انہوں نے کہا کہ عمارت کی تعمیر مختلف مراحل میں ہوئی، ایک عمارت 1998 میں تعمیر ہوئی جسے باقاعدہ ریگولرائز کیا گیا جبکہ کچھ حصے 1991 میں بنائے گئے تھے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازہ کے سانحے کا ذمہ دار کسی ایک فرد یا سیاسی جماعت کو قرار دینا حقائق کے منافی ہے اور یہ تمام فیصلے 18ویں ترمیم سے پہلے کے ادوار میں کیے گئے تھے۔