امریکاجنگ میں کودپڑا:3ایرانی جوہری تنصیبات پرحملہ تہران کا آبنائے ہرمز بند، امریکی اثاثوں کو نشانہ بنانے کااعلان
امریکاتھوڑا انتظارکرے ،حملوں کی سزابھگتے گا،جوہری تنصیبات پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے:ایران
امریکی آبدوزوں سے 400میل دور داغے گئے 30ٹام ہاک میزائلوں نے ایران میں جوہری مقامات اصفہان اور نطنز کو نشانہ بنایا، فردو پر بی 2 بمبار طیاروں سے بم گرائے گئے، فردوپر 30ٹن بارود گرایا گیا، امریکی حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دئیے
امریکا کو پہنچنے والا نقصان ایران سے کہیں زیادہ ہوگا، خامنہ ای،جن جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا انھیں پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا، ایرانی سرکاری ٹی وی کا دعویٰ،ایران پر حملہ خطرناک پیش رفت، تنازع ہاتھ سے نکل گیا تو اس کے تباہ کن نتائج ہوں گے،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ
دنیا یہ نہ بھولے کہ سفارتی عمل کے دوران سب سے بڑی خیانت امریکا نے کی، یہ واضح ہو چکا امریکا کسی ضابطے، اخلاقیات یا عالمی اصولوں کا پابند نہیں، وہ ایک نسل کش اور قابض ریاست کے مقاصد کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے،ایرانی وزارت خارجہ کا ردعمل
واشنگٹن؍ تہران(آئی این پی )امریکانے اسرائیل کی جنگ میں براہِ راست شامل ہوتے ہوئے اتوار کی علی الصبح ایران کی 3جوہری تنصیبات پر حملہ کر دیا، ور فردو، نطنز اوراصفہان میں جوہری اہداف پر بم برسا دئیے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سب سے پہلے ان حملوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہمیں بہت بڑی کامیابی ملی ، اب یا تو امن قائم ہو گا یا ایران کے لیے ایک ایسا سانحہ ہو گا ، جو گذشتہ آٹھ دنوں سے بہت بڑا ہو گا ،دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کی تصدیق کی اور جوابی کارروائی کرنے کا اعلان کر تے ہو ئے کہا ہے کہ امریکا تھوڑا انتظار کرے، حملوں کی سزا بھگتے گا،ایران نے آبنائے ہرمز بند اور امریکی اثاثوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکی حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دئیے ۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے فردو جوہری سائٹ پر بموں کا ایک پورا پے لوڈ گرایا، فردو پر 30 ٹن بارود گرایا گیا، فردو ایٹمی پلانٹ کو مکمل تباہ کردیا، تمام طیارے یہ حملے کرکے باحفاظت واپس آ گئے۔امریکی میڈیا کے مطابق اامریکی آبدوزوں سے 400میل دور داغے گئے 30ٹام ہاک میزائلوں نے ایران میں جوہری مقامات اصفہان اور نطنز کو نشانہ بنایا جبکہ فردو پر بی 2 بمبار طیاروں سے بم گرائے گئے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ تمام امریکی جنگجوں کو ایران پر حملے کی مبارکباد، دنیا میں کوئی اور فوج ایسا نہیں کرسکتی تھی،آج رات ہمیں بہت بڑی کامیابی ملی ، انھوں نے کہا کہ ہم نے ایران کے تین جوہری تنصیبات پر بہت کامیاب حملہ مکمل کر لیا ہے جن میں فردو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں۔ تمام طیارے اب ایران کی فضائی حدود سے باہر ہیں۔انہوں نے کہا اسرائیل اب بہت زیادہ محفوظ ہے۔ عظیم امریکی مسلح افواج کو مبارک ہو۔ دنیا کی کوئی دوسری فوج ایسا نہیں کر سکتی۔انھوں نے اپنے پیغام کے آخر میں لکھا کہ اب امن کا وقت ہے!۔ بعدازاں وائٹ ہائوس میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ایران کے لیے پیغام بہت سادہ، مختصر اور براہ راست ہے، مذاکرات کی میز پر آئیں ورنہ مزید حملے کیے جائیں گے۔انھوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو مستقبل میں حملے اس سے بھی زیادہ بدترین ہوں گے اور بہت آسان بھی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے سابق فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی جانب سے ہزاروں افراد کو ہلاک کیا گیا۔انھوں نے کہا کہ میں نے بہت عرصہ پہلے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا، ایسا مزید نہیں چل سکتا۔انھوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایک ٹیم کی طرح کام کیا اور اسرائیل کے لیے بدترین خطرے کو مٹا دیا۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو اب ہر صورت میں امن کا آپشن چننا ہو گا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو مستقبل میں مزید حملے کیے جائیں گے جو اس سے بہت زیادہ بڑے لیکن بہت آسان ہوں گے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آج رات میں دنیا کو یہ بتا سکتا ہوں کہ ان حملوں میں ہمیں بہترین کامیابی ملی۔ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اب یا تو امن قائم ہو گا یا ایران کے لیے ایک ایسا سانحہ ہو گا جو گذشتہ آٹھ دنوں سے بہت بڑا ہو گا۔ یاد رکھیں کہ ابھی بہت سارے اہداف ایسے ہیں جنھیں نشانہ نہیں بنایا گیا۔ آج رات ہم نے سب سے مشکل ہدف کو نشانہ بنایا۔ لیکن اگر امن قائم نہیں ہوتا تو ہم دیگر اہداف کو درستگی، رفتار اور کامیابی سے نشانہ بنائیں گے۔امریکی ٹی وی کے مطابق ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو میں رابطہ ہوا جس میں ٹرمپ نے امید کا اظہار کیا کہ یہ حملے نئی سفارت کاری کی راہ ہموار کریں گے۔دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے آبنائے ہرمز بند کرنے اور جوابی کارروائی کا اعلان کر دیا۔ ایران نے کہا ہے کہ امریکا تھوڑا انتظار کرے، حملوں کی سزا بھگتے گا۔پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں تمام امریکی اثاثوں کو نشانہ بنائے گا، یورپی یونین کا کوئی بھی بحری بیڑہ یورپ نہیں پہنچ سکے گا، اب ہمارے لیے جنگ شروع ہو چکی ہے، خطے میں موجود ہر امریکی شہری یا فوجی اب ہدف ہے۔ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ٹیلی گرام پر پوسٹ کیا ہے کہ امریکا جنگ میں اپنے نقصان کیلئے داخل ہوگیا، امریکا کو پہنچنے والا نقصان ایران سے کہیں زیادہ ہوگا۔امریکی حملوں پر اپنے ابتدائی ردعمل میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انھیں اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری، مفادات اور عوام کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا نیٹ ورک ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کی دفعات جو اپنے دفاع کے لیے جائز ردعمل کی اجازت دیتی ہیں، ایران اپنی خودمختاری، مفادات اور عوام کے دفاع کے لیے تمام اختیارات محفوظ رکھتا ہے۔عراقچی نے اس حملے کو شرمناک قرار دیا جس کے دیرپا نتائج ہوں گے۔ اقوامِ متحدہ کے تمام اراکین کو اس انتہائی خطرناک، لاقانونیت پر مبنی اور مجرمانہ رویہ پر گھبرانا چاہیے۔جبکہ ایران نے جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا۔ ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے امریکا کے جانب سے اس کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے بعد سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے ڈپٹی پولیٹیکل ڈائریکٹر حسن عابدینی نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ ایران نے کچھ عرصہ قبل ان تین جوہری تنصیبات کو خالی کرا لیا تھا۔ جنھیں امریکا کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ کی بات سچ بھی ہے تو ایران کو کوئی بڑا دھچکا نہیں لگا کیوں کہ مواد پہلے ہی ان مقامات سے نکال لیا گیا تھا۔علاوہ ازیں ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکی فضائی حملے کے بعد قم شہر اور اردگرد کے علاقوں کے مکینوں کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں، فردو کی جوہری تنصیب کے آس پاس تابکاری کے پھیلائو کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ایران کی جوہری توانائی تنظیم (اے ای او آئی )نے امریکا کی جانب سے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کی سخت مذمت کی ہے اور اسے وحشیانہ حملہ قرار دیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق تنظیم نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ اس معاملے میں لاپرواہ اور یہاں تک کہ معاون ثابت ہوئی ہے۔ایران کی جوہری توانائی تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان حملوں کی مذمت کرے اور ایران کی جائز پوزیشن کی حمایت کرے۔بیان میں کہا گیا کہ دشمنوں کے منفی منصوبوں کے باوجود ایران کے سائنسدان اور ماہرین ملک کی جوہری صنعت کو آگے بڑھانے کا عمل جاری رکھیں گے۔تنظیم نے کہا کہ اس حملے کے بعد ایران ضروری اقدامات کرے گا، جن میں قانونی کارروائیاں بھی شامل ہوں گی۔ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں امریکا کی جانب سے ایران پر حملے کو خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ خطرہ یہ ہے کہ اگر یہ تنازع ہاتھ سے نکل گیا تو اس کے عام شہریوں، خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے۔ انھوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ اس انتہائی نازک موڑ پر یہ ضروری ہے کہ صورتحال افراتفری کی جانب نا بڑھے۔ اس کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، واحد حل سفارت کاری ہے اور واحد امید امن ہے۔دریں اثناء ایران نے امریکی حملوں کے بعد اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز سے نیا حملہ کردیا ۔عرب میڈیا کے مطابق تل ابیب سمیت اسرائیل بھر میں جنگی سائرن بجنا شروع ہوگئے ہیں اور فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ۔ غیرملکی خبر رساںادارے کے مطابق اسرائیلی شہر حیفا پر متعدد ایرانی میزائل گرنے کی اطلاعات ہیں، تل ابیب میں بھی متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کے تازہ میزائل حملوں سے اسرائیل کے مختلف حصوں میں نقصانات ہوئے ہیں۔ اسرائیلی نے اپنے شہریوں کو بنکرز میں جانے کی ہدایت کردی ہے ۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان کے مطابق حیفا اور تل ابیب میں اسرائیل کے 14 اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ترجمان کے مطابق یہ حملے اب تک کے سب سے کامیاب حملوں میں سے ایک ہیں۔ترجمان پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ حیفا میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے قادر-ایف میزائلوں سے حملہ کیا گیا، حملے میں اسرائیلی فوج کی سافٹ ویئر کمپنیوں کے دفاتر،پاور پلانٹ، آئل ریفائنری، ائیربیس، اسرائیلی سائبر کمانڈ سمیت رافائل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔عرب میڈیا کے مطابق حملوں میں تل ابیب اور حیفا سمیت متعدد اسرائیلی علاقوں میں عمارتوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے اسرائیل پر تازہ میزائل حملے میں 20 سے 40 بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا۔ اسرائیل کے 400 سے زائد شہروں، قصبوں اور علاقوں میں جنگی سائرن بجائے گئے۔