دہشت گرد تنظیموں کیخلاف مشترکہ کارروائی کی جائے شنگھائی تعاون تنظیم
دہشتگردی کی تمام اقسام کی مذمت‘ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں دہرے معیار کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا:اجلاس کا اعلامیہ‘پاکستان میں جعفر ایکسپریس، خضدار حملوں اور پہلگام واقعے کی سخت مذمت
چین کی کامیابیاں صدر شی جن پنگ کی مدبرانہ اور بصیرت افروز قیادت کا نتیجہ ہیں، پاکستان ہمیشہ کثیرالجہتی، مکالمے اور سفارت کاری کی طاقت پر یقین رکھتا ہے:شہبازشریف کا اجلاس سے خطاب
پاکستان ایران کے ساتھ تاریخی اور برادرانہ تعلقات کیلئے پرعزم ہے، سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے:وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ملاقات میں گفتگو
تیانجن (آن لائن‘آئی این پی)شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)کے سربراہ اجلاس میں دہشتگردی کی تمام اقسام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرے معیار کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا،دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت سمیت دہشت گردی کے تمام پہلوؤں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جائے۔شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے جاری اعلامیہ میں پاکستان کے دہشتگردی کے حوالے سے موقف کی تائید دہشتگردی پر پاکستان کا موقف ہمیشہ سے واضح اور دو ٹوک رہا ہے جسے پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے ۔ایس سی او کے جاری اعلامیہ میں بھی دہشت گردی کی تمام اقسام کو قابل مذمت قرار دینا پاکستان کے موقف کی تائید ہے۔ایس سی اواعلامیہ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرے معیار کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا ۔شنگھائی تعاون تنظیم کے جاری اعلامیے میں جعفر ایکسپریس اور خضدار میں بچوں کی سکول بس پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی او رکہاگیا کہ دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت سمیت دہشت گردی کے تمام پہلوؤں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جائے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، عالمی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی، اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ اور مؤثر کارروائی کی جائے۔افغانستان میں پائیدار امن کیلئے تمام نسلی سیاسی گروہوں کے نمائندوں کی شمولیت سے وسیع شرکت کے ساتھ حکومت قائم کی جائے،ایس سی او اعلامیہ ہر قوم کو آزادی سے اپنے سیاسی، سماجی اور اقتصادی راستے کا انتخاب کرنے کا حق حاصل ہے، ایس سی او اعلامیہ کے مطابق دہشتگرد گروہوں کو سیاسی یا کرائے کے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے،قبل ازیں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا پاکستان شدید بارشوں، گلوبل وارمنگ، کلاؤڈبرسٹ اور تباہ کن سیلاب کی لپیٹ میں ہے، سیلاب سے انفرااسٹرکچر، کھڑی فصلوں اور مویشیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، بہادر اور ثابت قدم عوام امدادی اور بحالی کے کاموں میں مصروف ہے۔ تمام پڑوسیوں سے معمول کے مستحکم تعلقات چا ہتے ہیں لیکن انتہا پسندی اور دہشتگردی خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ چین کی کامیابیاں صدر شی جن پنگ کی مدبرانہ اور بصیرت افروز قیادت کا نتیجہ ہیں، چین کی عالمی قیادت ایس سی او ہی نہیں بلکہ دیگر نمایاں اقدامات میں بھی نظر آتی ہے، پاکستان ہمیشہ کثیرالجہتی، مکالمے اور سفارت کاری کی طاقت پر یقین رکھتا ہے، کسی بھی ملک کے لیے خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے بڑھ کر کچھ نہیں، پاکستان ایس سی او اراکین اور ہمسایہ ممالک کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے اور تمام بین الاقوامی و دوطرفہ معاہدوں کا پاسدار ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کے درمیان بہترین منصوبہ ہے، پاکستان اقوامِ متحدہ اور ایس سی او کے چارٹرز پر عمل پیرا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا، ایران پر اسرائیل کی بلاجواز جارحیت قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول ہے جبکہ غزہ میں جاری ظلم اور بھوک ہمارے اجتماعی ضمیر پر نہ ختم ہونے والا زخم ہے، پاکستان اقوامِ متحدہ کے منظور شدہ دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔علاوہ ازیںمحمد شہبازشریف نے پاکستان اور ایران کے مابین سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایرانی عوام اور حکومت کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی اور علاقائی امن کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور مذاکرات اور سفارت کاری کو تنائو میں کمی اور استحکام کی جانب واحد قابل عمل راستہ قرار دیا۔وزیر اعظم شہبازشریف نے چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)کے سربراہ اجلاس کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کے اگست 2025 میں دورہ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیانہ تعلقات کو مزید بہتر اور مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوا، صدر ایران کے حالیہ دورہ پر پاکستانی عوام انتہائی خوش تھی۔انہوں نے دونوں دوست ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔شہباز شریف نے ایران کے عوام اور حکومت کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی اور علاقائی امن کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ مذاکرات اور سفارت کاری کو تنائو میں کمی اور استحکام کی جانب واحد قابل عمل راستہ قرار دیا۔اس موقع پر ایران کے صدر نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں جاری سیلابی صورتحال کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے نقصان اور مالی نقصانات پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ایرانی حکومت اور عوام پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔