ایک خواب،ایک چیخ،اورایک امت کانوحہ

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
عالمی طاقتیں اورمنافقت کاعریاں چہرہ اب کھل کرسامنے آگیاہے۔ساری دنیاجانتی ہے کون ظالم ہے،کون مظلوم۔ ظالم کومظلوم بنایاجارہا ہے مگرپھربھی امریکااپنے بحری بیڑوں کے ساتھ اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑاہے،امریکی وزیرخارجہ خودکویہودی کہہ کرظالم کو مظلوم بنادیتاہے،جوبائیڈن دھمکیاں دینے پہنچ جاتاہے،ٹرمپ اسرائیل سے محبت میں تمام حدیں پارکرچکاہے،برطانیہ،فرانس،سب اس ظلم میں شریک اورہم؟ہم کرکٹ میں مصروف ہیں۔ہم اقتدارکی رسہ کشی میں الجھے ہیں۔یوکرین میں بجلی بندہوتوانسانی حقوق یادآ جاتے ہیں، غزہ میں سب کچھ مٹادیاجائے توخاموشی کیونکہ شاید مسلمان انسان ہی نہیں سمجھے جاتے۔
یہاں سب سے زیادہ شرمناک بات دشمن کی طاقت نہیں،بلکہ اصل المیہ ہماری بے حسی اوریہ بزدلانہ رویہ تاریخ میں لکھاجاچکاہے۔ہم کھیل میں مصروف ہیں۔ہم اپنے ہاں بڑی بڑی اسکرینوں پرکرکٹ سے لطف اندوزہورہے تھے،اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کے چوکوں چھکوں پرخوشی اوردیوانگی میں ناچ رہے تھے،مخلوط پارٹیوں میں بے ہنگم ڈانس کرکے اپنے کھلاڑیوں کوداد وتحسین فراہم کررہے تھے،یاہم ہم اقتدارکی لڑائی میں الجھے ہوئے ہیں۔سوشل میڈیاپرجھوٹ،بدتمیزی،فریب،میں قوم کے نوجوانوں کوگمراہ کرکے دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیراہیں،بغیرتحقیق کے ہرقسم کے جھوٹ کوآگے پھیلاکرتفرقہ کی آگ کوپھیلانے میں اپناکرداراداکررہے ہیں۔ 
یہ خاموشی،یہ بزدلی،یہ بے حسی یہ سب تاریخ میں لکھاجاچکاہے۔اورآنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی جب امت جل رہی تھی،آپ کیاکررہے تھے؟جب ٹرائیکاغزہ،کشمیر اور دیگرمسلمانوں کوگاجرمولی کی طرح  کاٹ رہے تھے توآپ کہاں تھے؟متعصب ہندومودی نے تواپنے مربی اسرائیل کی مدداورغزہ کے معصوم، بے گناہ بچوں،عورتوں بوڑھوں اور نوجوانوں کو تہہ تیغ کرنے کیلئے،ان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کیلئے اپنے ہاں سے ایک ملین سے زیادہ ریٹائرڈ فوجی اوردیگرافرادکوبھیجاتھاتوتم کہاں تھے؟قیامت کے دن یہ عذرقبول نہیں ہوگاکہ سرحدیں دورتھیں،ذمہ داری زیادہ تھی۔ہم کمزورتھے۔
میں نے جن مصائب، ظلم وستم،بے انصافی کاآپ سب کے سامنے تذکرہ کیاہے،ہم ہرروزاسے میڈیامیں سنتے اورپڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اوراپنی بے بسی کابھی ہمیں علم ہے لیکن کیاہم خودکواوراپنے بچوں اورآنے والی نسل کیلئے ورثہ میں مایوسی اورغلامی کے پہاڑ چھوڑکرجائیں گے؟یہ فیصلہ اب ہمیں خودکرناہے۔ہمیں اس کا حل خودتلاش کرناہے،کوئی باہرسے آکرہمارے آنسو نہیں پونچھے گا۔یادرکھیں! اس کاحل نہ نیٹومیں ہے نہ اقوام متحدہ میں،اورنہ ہی عالمی طاقتوں کے وعدوں میں حل ہے۔اس کاواحد اورفقط حل واعتصِموا بِحبلِ اللہِ جمِیعاولاتفرقوامیں ہے۔قرآن ہمیں اتحاد سکھاتا ہے،سنت ہمیں قربانی سکھاتی ہے،اور سیرت ہمیں جرات۔جب امت ایک ہوتوبدر بھی جنم لیتی ہے اورجب بکھرجائے توکربلاتنہارہ جاتاہے۔امتِ مسلمہ سے شائدیہ آخری پکارآرہی ہے کہ یہ وقت تماشائی بننے کانہیں،یہ وقت تقریروں کانہیں،یہ وقت خوداحتسابی کاہے۔اپنے ایمان کوجگائیے۔ اپنے ضمیرکوزندہ کیجیے۔ فرقوں،قومیتوں،مفادات سے اوپراٹھئے۔کیونکہ اگرآج ہم نہ جاگے توکل یہ خواب ہماری حقیقت بن جائے گا۔
یہ جوکچھ آپ نے سنا،یہ محض ایک خطاب نہیں تھا،یہ تاریخ کانوحہ تھاجوآج کی زبان میں آپ سے ہمکلام ہوا۔یہ سوال اب صرف غزہ کا نہیں،یہ سوال صرف کشمیرکانہیں،یہ سوال صرف فلسطین،شام،یمن یاسوڈان کانہیں،یہ سوال ہم سب کاہے۔تاریخ کاقلم رکتانہیں،وہ لکھتا ہے اورآنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی جب امت لہومیں ڈوبی ہوئی تھی توتم کہاں تھے؟جب بچوں کے کفن چھوٹے پڑگئے تھے توتم کس اسکرین پرمصروف تھے؟جب قبلہ اول جل رہاتھاتوتم کس مفاد کی حفاظت کررہے تھے؟جب سرینگر،شوپیاں،جموں اورراجوری میں مظلوم کشمیری’’ہم ہیں پاکستانی اورپاکستان ہماراہے‘‘کے نعرے لگانے کی پاداش میں گولیوں سے بھون دیئے گئے تھے،توتم ہمیں کیوں بھول گئے؟
یادرکھیے قیامت کے دن نہ پاسپورٹ کام آئے گانہ قومیت،نہ جھنڈے،نہ اتحادوں کی رکنیت۔وہاں صرف یہ پوچھاجائے گاکہ تم نے مظلوم کے ساتھ کیاکیا؟آج بھی وقت ہے ، لیکن وقت بہت کم ہے۔یہ گھڑی تماشائی بننے کی نہیں،یہ گھڑی خوداحتسابی کی ہے،یہ گھڑی لوٹ آنے کی ہے،اللہ کی رسی کومضبوطی سے تھام لینے کی ہے۔قرآن آج بھی وہی ہے ،سنت آج بھی وہی ہے،قبلہ آج بھی ایک ہے،فرق صرف یہ ہے کہ ہم بکھرچکے ہیں۔آئیے آج عہد کریں کہ ہم خبرپرنہیں،حق پرکھڑے ہوں گے،ہم مفادپرنہیں،ایمان پرفیصلہ کریں گے،ہم خاموشی نہیں،ذمہ داری کوورثہ بنائیں گے۔
آج تاریخ ہماری طرف دیکھ رہی ہے اورتاریخ کے ہاتھ میں کوئی سفیدکاغذنہیں بلکہ فیصلے کاقلم ہے۔یادرکھناتاریخ یہ نہیں لکھے گی کہ تم نے کیاکہا،تاریخ یہ لکھے گی کہ تم نے کیاکیا؟ آج اگرہم نے خاموشی کوچناتوکل ہماری خاموش قبروں سے ہمارے بچے سوال کریں گے ،جب امت کٹ رہی تھی توآپ کہاں تھے؟اگرآج بھی تم نے یہ کہہ کرخودکوبچالیاکہ ہم مجبورہیں تویادرکھناکل تمہارے بچے تمہاری قبروں پرکھڑے ہوکرتمہیں مجرم کہیں گے۔یہ وقت ہے ڈرکودفن کرنے کا،یہ وقت ہے خاموشی کوتوڑنے کا،یہ وقت ہے سوشل میڈیاکے مجاہدنہیں،عمل کے سپاہی بننے کا۔یہ وقت ہے فرقوں سے اوپراٹھنے کا،قومیتوں سے باہرآنے کا،پارٹیوں،مفادات،عہدوں سے نکل کرصرف ایک پہچان اپنانے کا،ہم مسلمان ہیں اس لیے بے حس نہیں ہوسکتے،اس لیے مظلوم کوتنہانہیں چھوڑسکتے۔ہم مسلمان ہیں اس لیے حق کے بغیرزندہ رہناہمیں قبول نہیں۔
آج پھروقت پکاررہاہے۔یاتوہم اپنے اپنے ایمان کابوجھ اٹھائیں یاتاریخ ہمیں بزدل قوم کے نام سے یادرکھے گی۔اگرآج ہم نے اپنے دلوں کونہ جگایاتوکل یہ خواب ہمارے گھروں کی حقیقت بن جائے گا۔یہ وقت ٹویٹ کرنے کانہیں،یہ وقت صرف اسٹیٹس لگانے کانہیں،یہ وقت آنسو بہانے کانہیں،یہ وقت کھڑاہونے کاہے۔یہ وقت ہے قوم،نسل، زبان،پارٹی سب کوایک طرف رکھ کر صرف ایک پہچان اپنانے کاکہ میں مسلمان ہوں۔
اب تقریرختم ہورہی ہے لیکن یادرکھنا فیصلہ اب شروع ہورہاہے۔آج یہ محفل ختم ہوگی،کرسیاں خالی ہوجائیں گی،اسٹیج خاموش ہوجائے گالیکن سوال باقی رہے گا:کیاہم نے صرف سنا؟یاہم بدلنے کاارادہ لے کراٹھ رہے ہیں؟آج امت کوایک اورتقریرنہیں چاہیے،امت کوایک اوربیدارضمیرچاہیے۔امت کوتالیاں نہیں چاہئیں،امت کوکھڑے ہونے والے نوجوان چاہئیں۔یادرکھوقومیں اس دن مرتی ہیں جس دن ان کے نوجوان ظلم پرخاموش ہوجائیں اورقومیں اس دن زندہ ہوتی ہیں جس دن ان کے نوجوان حق کیلئے کھڑے ہو جائیں ۔
اگرآج ہم نے اپنے ضمیرکونہ جگایاتویادرکھنایہ آگ جوآج غزہ میں جل رہی ہے،جس کے شعلے مقبوضہ کشمیرکے خوبصورت چناروں کی انسانی بستیوں کوجلاکرراکھ کررہے ہیں،کل ہمارے دروازوں پرہوگی۔یہ خون جوآج فلسطین میں بہہ رہاہے،کل ہماری گلیوں میں ہوگا اورمتعصب ہندوجوبارہااپنے  ناپاک سندورکومسلمان پاکستانیوں کے پاکیزہ خون سے سجاناچاہتاہے،وہ اپنی سازشوں پرشب وروزعمل درآمدکررہاہے۔ہمیں اپنے عمل سے جواب دیناہے کہ اگرمعاملہ یہاں نہ رکاتوپھرجوابی وارسے نہ کوئی اقوامِ متحدہ بچے گی،نہ کوئی سپر پاوراورنہ کوئی معاہدہ۔آج بھی وقت ہے،آج بھی موقع ہے،آج بھی رب موجودہے اورقرآن آج بھی یہی کہہ رہاہے:واعتصِموا بِحبلِ اللہِ جمِیعا ولا تفرقوا
آئیے اس لمحے،اس مجمع میں،اس اسٹیج کے سامنے ہم اللہ سے عہد کریں:
اے اللہ، ہمیں تماشائی نہ بنانا،ہمیں بزدل نہ بنانا،ہمیں خاموش قوم نہ بنانا،ہمیں وہ نوجوان بناجوحق کیلئے کھڑے ہوں،جوظلم کے سامنے جھکیں نہیں،جوامت کابوجھ اٹھانے سے نہ ڈریں۔ہماری بے حسی کوبیداری میں بدل دے،ہماری کمزوری کواتحادمیں بدل دے،ہماری خاموشی کو جرات میں بدل دے،اورہمیں پھرسے ایک امت بنادے،تماشائی قوم
 نہیں،بلکہ حق کی گواہ قوم اورمجاہدِحق بنادے،ہمیں بکھری ہوئی بھیڑنہیں،ہمیں خاموش نہیں سچ بولنے والابنادے۔
اے اللہ اگرتاریخ ہمیں پکارے توہمیں شرمندہ نہ ہوناپڑے بلکہ ہم سینہ تان کرکہہ سکیں یااللہ ہم سوئے نہیں تھے،ہم کھڑے تھے:
اللھم اشھد،اللھم اشھد،اللھم اشھد
آمین یا رب العالمین
(لیکچر مولاناظفرعلی خان ٹرسٹ  لاہورکے زیر اہتمام۔۔۔۔۲۴جنوری۲۰۲۶ء )