سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے حق کے کلمے کو بلند فرمایا، اور درود و سلام ہو انبیا کے سردار حضرت محمد ﷺپر، اور آپ کے آل و اصحاب پر، جو نیک اور برگزیدہ ہیں۔ اما بعد۔۔۔۔۔۔۔!
حضراتِ محترم!آج کی یہ اسپیس جس کاعنوان ہے یہ دور اپنے ابراہیم کی تلاش میں ہے،محض ایک اجتماع نہیں بلکہ ایک فکری صداقت،ایک روحانی للکار،اورایک اجتماعی محاسبہ ہے۔آج جب ہم امتِ مسلمہ کی زبوں حالی پرگفت وشنید کیلئے جمع ہیں،تودراصل ہم اس قوم کی حالت زارپرماتم کرنے نہیں،بلکہ اس کے دردکا درماں ڈھونڈنے آئے ہیں۔آج کی اس فکری نشست ،یہ علمی محفل،یہ بیداری کی شبِ دعامیں صرف اس لئے اکٹھے نہیں ہوئے ہیں کہ امت کی زبوں حالی کاتذکرہ کریں کیونکہ ہم سب کوعملًااس کاعلم ہے لیکن ہم اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ یہ محض ایک رسمی اجتماع نہیں،بلکہ تاریخ کے زندہ سوالات کاجواب ہے،اورامت کی آہوں اور سسکیوں کاترجمان ہے۔آج جب ہم امتِ مسلمہ کی زبوں حالی پربات کرنے آئے ہیں،توہماری زبان فقط الفاظ ادانہیں کرے گی،بلکہ دل کی دھڑکنوں کابیاں دے گی۔آج ہماراموضوع فقط تجزیہ نہیں،بلکہ تجدیدِعہدہے۔ہمیں کہناہوگا،ہمیں سنناہوگا،ہمیں روناہوگااورپھر اٹھناہوگاکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کورونانہ پڑے۔
حضراتِ محترم!جب تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں،تواسلام کاسورج افقِ عالم پریوں طلوع ہوتانظرآتاہے کہ جہالت کے اندھیرے چھٹنے لگتے ہیں،اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جب اسی تاریخ کے اوراق مزیدپلٹتے ہیں،جب ماضی کی خزاں دیدہ شاخوں میں بہارکی صدائیں سننے کوجی چاہتاہے،جب ماضی کی سنہری رتیں حال کے خزاں رسیدہ دامن میں رنگ بھرنے کی تمنا کرتی ہیں،تودل بے ساختہ اس دردکو محسوس کرتاہے جوامتِ مسلمہ کے حال پرروتاہے،اورعقل سوال کرتی ہے کہ آخروہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے اس عروج یافتہ قافلہ نورکو ذلت کی تاریکیوں میں دھکیل دیا؟
یادکیجیے!وہ دورجب اہلِ عرب کی سرزمین سے اٹھنے والی صدائے توحیدنے قیصروکسری کے محل لرزادیے،جب روم وایران کے جباروں کوجھکناپڑا،ان کی طاقت کاگھمنڈاور تکبر زمین بوس ہوا،جب بیت المقدس کے درودیوارنے بھی اسلام کے قدموں کی چاپ سنی،جب غرناطہ کی فضائیں علم وحکمت کی صداوں سے گونجتی تھیں،جب بغدادکاقلم تلوارسے بلندمرتبہ رکھتاتھا۔یادکریں!وہ دور جب
اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کااورہی اندازہے
مشرق ومغرب میں تیرے دورکاآغازہے
حضراتِ گرامی یاد کریں وہ لمحے جب
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمودوایاز
نہ کوئی بندہ رہانہ کوئی بندہ نواز۔
جب کعبہ گواہی دیتاتھاکہ یہ قوم وحدت کی علمبردارہے،جب اذان کی صداصرف مسجدتک محدودنہ تھی بلکہ تہذیبوں کاتعارف تھی۔ مگر آج؟آج وہی قوم دربدرٹھوکرکھارہی ہے،
وہی جوکل کی امام تھی ۔۔۔۔۔۔چمن کوجن کے خون سے ملی تھی بادِبہار
مدینہ کی گلیوں سے نکلنے والی وہ آوازجس نے قیصروکسریٰ کولرزادیا۔وہ پیغام جس نے غلامی کوتوڑا،ظلم کومٹایا،جہالت کوعلم سے بدلااورپتھروں کے پجاریوں کووحدتِ ربانی کاپرستار بنایا۔اندلس سے بغدادتک،قاہرہ سے سمرقندوبخاراتک،امت کے علم و عمل نے دنیاکوعلم،عدل،روحانیت،اورتہذیب کے نئے معیارات دیے۔مگرآج؟وہی امت،جسے ’’ خیر امت ــ‘‘کہاگیا،پستی کے گڑھوں میں گرچکی ہے۔آج امت کاموجودہ حال کیاہے؟وہ قوم جوکل مکہ ومدینہ کی خاک سے اٹھ کرقیصروکسریٰ کی سلطنتوں کوزیرکرگئی،آج اس حال کو پہنچی ہے کہ اس کی قیادت مفلوج،اس کامعاشرہ پراگندہ،اس کی تہذیب مغرب زدہ،اوراس کادین محض رسوم ورواج میں قید ہوکررہ گیاہے۔آج وہی امت ٹکڑوں میں بٹی، گروہوں میں تقسیم،مفادات میں گرفتار،قیادت سے محروم،فکرسے بے بہرہ،اوروحدت سے عاری نظرآتی ہے۔سیاست کی بساط پرمہرے بن چکی قوم،جن کے فیصلے واشنگٹن، لندن اورپیرس کے ایوانوں میں ہوتے ہیں۔
آج جب ہم’’امتِ مسلمہ کی زبوں حالی‘‘پرگفتگوکرتے ہیں،توہمیں فقط آنکھوں سے بہتے آنسونہیں،دل سے اٹھتی سسکیاں سننی ہوں گی۔ہمیں تاریخ کی عدالت میں گواہی دینی ہوگی،اوروہ بھی سچائی کی۔امت کایہ زوال اچانک نہیں آیا،یہ صدیوں کی غفلت،فکری جمود،اخلاقی زوال،علمی انحطاط،اورروحانی بے حسی کانتیجہ ہے۔
اے اہل مجلس!یہ زوال نہ توآسمان سے نازل ہوا،نہ ہی کسی اتفاقی حادثے کانتیجہ ہے۔یہ صدیوں کی کوتاہی،غفلت اورخودفراموشی کاثمرہے۔وہی امت جو’’اقر‘‘کی صداپراٹھی تھی،آج علم سے محروم ہے۔علامہ اقبال نے کیاخوب کہا:
وجودِزن سے ہے تصویرِکائنات میں رنگ
اسی کے سازسے ہے زندگی کاسوزِ دروں
حضراتِ گرامی قدر!ہمیں اعتراف کرناہوگاکہ ہمارازوال اندرونی ہے،بیرونی سازشوں کااثرثانوی ہے۔ہم نے قرآن کوصرف تعویذبنایا،سیرتِ رسول کو صرف میلادتک محدودکیا، اجتہادکادر بندکیا ، اورتقلیدِجامدکوشعاربنایا۔غورکریں کہ فکری جموداوراجتہادی جرات کی کمی کی وجہ سے ہم کہاں پہنچ گئے ہیں۔امتِ مسلمہ کاسب سے بڑاالمیہ اس وقت فکری جمودہے۔
جمودِفکرونظرہے فسادکی جڑ
یہی ہے امتِ مسلمہ کی فکری مزلت
ہم نے اجتہادکے دروازے بندکردیے،سوال اٹھانے کوجرم بنادیا،اورتقلیدِجامدکودین کالبادہ پہنادیا۔کون نہیں جانتاکہ اسلام کی روح اجتہاد،غوروفکر،اور عقلی توازن میں پنہاں ہے،مگرآج ہم نے فتاویٰ کی مشینیں توبنالیں،مگراجتہادکے دربندکردیئے۔نئی نسل سوال کرے توگستاخ ٹھہرے،سوچے توبے دین۔آج ہم نے نہ فقط اپنی ماں،بہنوں اوربیٹیوں کوتعلیم سے محروم کردیا،بلکہ اپنی تہذیبی اساس سے بھی کاٹ دیا،رہی بات اپنے بچوں کی توآج کل بچے کی پیدائش پرہی اس کانام کسی مغربی طرزِتعلیم کے اسکول میں رجسٹرکروانے کی فکرلاحق ہوجاتی ہے کہ اسکول کی عمرتک پہنچتے ہی اس کانام بھی اسکول داخلہ کی فہرست میں آجائے۔
جمودِفکروعمل،موت ہے زندگی کیلئے
چراغ بجھنے لگے توہواسے شکوہ نہ کر
آج ہماری درسگاہوں میں علم ہے،مگرہدایت نہیں۔ڈگری ہے،مگردانش نہیں۔تربیت ہے،مگرمقصدیت کافقدان۔آج ہمارے تعلیمی ادارے کردارسازی کی بجائے محض ڈگری سازی کے مراکزبن چکے ہیں۔ہمارے دینی مدارس میں منقولات کاطوفان ہے،مگرمعقولات کی پیاس باقی ہے۔ہمارے جامعات میں جدیدسائنس کاشورہے،مگرروحانیت کی خاموشی ہے۔ہمارے تعلیمی ادارے صرف ملازمت کے حصول کی فیکٹریاں بن چکے ہیں۔ہمیں ایسے ادارے چاہییں جہاں سے غزالی،ابن خلدون،اوراقبال پیداہوں۔ یونیورسٹیوں میں نصاب موجودہے،مگرنظریہ ندارد۔علم ہے،مگربصیرت غائب۔اسکولوں میں مغربی فلسفے پڑھائے جاتے ہیں،مگراپنی تہذیب اجنبی ہے۔ مدارس میں حافظ وقاری تونکل رہے ہیں،مگرامت کوفقیہ،مفکر،اورقائدکی بھی ضرورت ہے۔یاد رکھیں:
علم وہ جوروشنی بخشے دلوں کو
ورنہ ہرجاہل،کتابوں کابھی حافظ ہوگیا
امت مسلمہ کی سیاسی قیادت؟وہ توبکھرے ہوئے پتوں کی مانندہے،جنہیں ہواجدھرچاہے اڑالے جائے۔کہیں بادشاہت ہے توکہیں جمہوریت کالبادہ اوڑھے آمریت مسکرارہی ہے۔کہیں خلافت کانعرہ ہے مگرعمل میں استبداد۔اوراتحاد؟وہ خواب بن چکاہے۔اوآئی سی کے اجلاسوں میں قراردادیں توبہت منظورہوتی ہیں،مگرعملًاکوئی اقدام نہیں۔غزہ، مقبوضہ کشمیر،میانمار،سوڈان ہرجگہ مظلوم مسلمان لہوکی قسطیں دے رہے ہیں،اورامتِ مسلمہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔یادرکھئے!
علم اگرتجھ کونہ دے اپنے عمل کی دولت
توفقیرکیلئے زہرہے،سلطان کیلئے بھی
(جاری ہے)